Sunday, October 21, 2018

محمدبن_سلمان_کس_سےخوفزدہ_ہے؟

Image result for bin salman

محمدبن_سلمان_کس_سےخوفزدہ_ہے؟
رابطہ عالم اسلامی، آل سعود کا عبرتناک سقوط مؤمنین صادقین اور تاریخی گردش :

مغرور ظالم ابن سلمان اپنے انجام کی طرف سرپٹ دوڑ رہاہے، آل سعود کا سقوط شروع ہوچکاہے، مملکت توحید کا استحصال کرنے والے اب تاریخ کا نشان بننے والے ہیں، لاکھوں عام مسلمانوں کو پورے خطہ عربی میں موت کی نیند سلانے والا ٹولہ اپنے خمیر کی طرف بھاگ رہا ہے، اسرائیلی تھنک ٹینک کے تربیت یافتہ اور جارج بش کے منظور نظر سپاہی دراصل اب اپنے انجام سے خوفزدہ ہوچکےہیں اسی خوفزدگی کا نتیجہ ہے سعودیہ میں علماء اسلام کی گرفتاری ائمہ حرمین کی بے حرمتی، فحاشی کے اڈوں کا فروغ، رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کے پلیٹ فارم کو یرغمال بنا لینا اور اس میں صرف انہی کو باقی رکھنا جو سعودیہ کے سماجی جرائم تو درکنار شرعی منکرات پر خاموش تائید کرسکیں، اب اس رابطہ عالم اسلامی کی بے شرمی اور درباری صفت میں کوئی باک نہیں رہاہے اس رابطے کے سائے تلے اب سعودیہ میں مفکر اسلام مولانا علی میاں ؒ کی کتابوں تک کو دہشتگردی کے اسباب میں شمار کیاگیاہے، تبلیغی جماعت کو بھی دہشتگرد تنظیموں کے برابر کھڑا کیا جارہاہے، اور رابطہ عالم اسلامی کے سعودی سرکاری علما اس پر مہر لگاتے جارہے ہیں ۔ آل سعود کے خطرناک انسانیت سوز اور غیر اسلامی جرائم مصر، شام، عراق، اور یمن تک پھیلے ہوئے ہیں ، جہاں کئی کئی منزلہ عمارتوں اور شہر کی آبادیوں پر خوفناک بمباری سے انسانی آبادیوں کے چتھڑے اڑائے جا رہے تھے، بڑی بڑی عمارتوں کے ملبے میں دبی ہوئی، عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کی لاشوں کے ایسے بھیانک اور خوفناک مناظر سامنے آرہے تھے، جنہوں نے چنگیز اور ہلاکو کے مظالم کو بھی بھلا دیا تھا، جہاں لاکھوں کی تعداد میں انسانوں کا پوری بےدردی اور آخری درجہ کی درندگی کے ساتھ خاتمہ کیا جا رہا تھا، جس کے شیطانی مکر و فریب سے عام مسلمان تو کیا، علماء اور دانشوروں کی اکثریت بھی واقف نہیں تھی۔
٢٠٠٣ء سے ٢٠١١ء تک عراق میں تقریباً دس لاکھ مسلمان شہید کیے جا چکے تھے، اور ان حملوں کے لیے جزیرۃ العرب کی سرزمین استعمال ہو رہی تھی، پھر شام میں ٢٠١١ء سے ٢٠١۷ء تک تقریباً دس لاکھ مسلمان شہید کر دیئے گئے، اور بیسیوں لاکھ جان بچا کر کسی طرح ترکی میں پناہ گزیں ہوئے تھے، لیکن یہ سب کچھ ہوا آل سعود کی فنڈنگ اور رابطہ عالم اسلامی کی منافقانہ کردار کے سائے تلے، اور آج بھی سعودی قونصلیٹ میں صحافی جمال خشوگی کے وحشیانہ قتل پر رابطہ عالم اسلامی کے درباری علما خاموش ہیں، رابطہ عالم اسلامی کو آل سعود نے دنیا بھر میں اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے یرغمال بنا رکھاہے یہاں علما کی پذیرائی درحقیقت علماء حق کی بدترین توہین اور اسلاف کی جراتمندانہ اور شان استغنا والی روایات کو روندنے جیسا ہے، اس رابطہ عالم اسلامی کی خسیس طبیعت اور اس کا، موجودہ ریموٹ کنٹرول کس کے ہاتھ میں ہے یہ سمجھنے کے لیے کیا اتنا ہی کافی نہیں کہ، اسی رابطے نے سرخیل علماء حق عالمِ ربانی، مجتہد زمانہ امام یوسف القرضاوی پر دہشتگردی کا فتویٰ دیا، اسی رابطہ عالم اسلامی کی پلیٹ فارم سے عالم اسلام، عالم عربی میں شریعت اسلامیہ کی سب سے مؤثر نمائندہ تحریک " اخوان المسلمین " پر ارھابی اور دہشتگردی کا لیبل لگایا وہ " اخوان المسلمین " جو اسوقت پورے عالم عرب میں دین و شریعت کی ترجمان ہے، فلسطینی کاز کی علمبردار ہے، اس رابطہ نے اس کو بھی نہیں بخشا، کیا درباری مولویت کی اس سے ذلیل مثال کہیں اور ہوگی؟ اس کے باوجود کیا وجہ ہے کہ کفر و اسلام کے واضح ترین قضیے میں، امریکہ اسرائیل سعودیہ اور ایرانی گٹھ جوڑ کے واضح باطل پڑاﺅ میں ہمارے نمائندے شریک ہوتےہیں؟ کیا یہ ہم مسلمانان ہند کی طرف سے خاموش تائید اور اجماع صنعتی کی مجرمانہ نمائندگی نہیں ہے؟ صاف اور صراحت کے ساتھ یہ خون شہدا کی توہین ہے، یہ اسلام پسند مجاہدین کو غم پہنچانا ہے، یہ جمال خشوگی جیسے بےباک صحافی کی لاش پر اپنی قیادت کا محل تعمیر کرنا ہے، جمال خشوگی کا کیا جرم تھا؟ یہی نا کہ وہ سعودیہ کی غير اسلامي بدعتی اور ظالمانہ پالیسیوں کو آئینہ دکھاتے تھے، حرمین کے خادموں نے انہیں ٹکڑے ٹکڑے کرکے قتل کروادیا! اس قتلِ بہیمانہ کا تو آل سعود نے اقرار بھی کرلیا ہے اب کس چیز، کا انتظار ہے؟ واشنگٹن پوسٹ کی تازہ شراکت کے مطابق یہ صاف ہیکہ: امریکی اسٹریٹیجی کو سعودی شہزادہ محمد بن سلمان میں کوئی خرابی نظر نہیں آتیں، نیز محمد بن سلمان سے امریکہ کو کافی فائدہ بھی ہورہاہے ۔
عالم عربی کی موجودہ خونچکاں صورتحال یہ واضح کرتی ہے کہ پورا عالم اسلام ایک انقلابی مرحلے میں داخل ہورہاہے، پوری دنیا میں توحید اور فرزندان توحید بظاہر سرنگوں ہوچکےہیں، امت بظاہر پسپائی کا شکار ہے، طاغوت اور اس کے ہمنوا اسلامی مراکز پر قابض ہیں، عالم اسلام کی ڈور کا ہر سرا باطل کے ہاتھوں میں ہے، بظاہر کتنے ہی کشف و کرامات ہوں کتنی ہی تقدس زدہ ہستی ہو اکثریت کی ڈور کہیں اور ہے ایک صدی سے زیادہ ہوا مسلمانوں کی عالمی ذلّت کو، صدیاں گذر چکی ہیں نسلوں کے بہتے خون اور لٹتی عصمتوں پر، یہ اعمال اور اکتساب کا بدل چل رہاتھا، اب یہ دور اپنے شباب پر ہے بزعم خود علمبرداروں اور ٹھیکیداروں کی شناخت کا دور ہے، سچائی وہی ہے جس پر ان ٹھیکیداروں کے نفسیاتی شکار کاٹ کھانے کو دوڑتے ہیں، یہ منظر پوری دنیا میں مؤمنین کے ساتھ برپا ہے، حکومتی اور سماجی، ہر سطح پر برپا ہے، یہ منظر مزید دراز ہوگا یہاں تک کہ " و لیعلمن الله الذین آمنوا و لیعلمن المنافقین " کا قرآنی نظارہ پیش ہوگا، جھوٹے علمبرداروں اور نفسیاتی ٹھیکیداروں کے بت دھڑادھڑ گر جائیں گے، اہل اسلام کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی، اس دوران کامیاب وہی ہے جو صرف اور صرف قرآن و سنت اور اجماع صحابہ کرامؓ کی روشنی میں اپنی بساط پر متحرک ہوگا، جو خالص ایمانی خطوط پر چلنے والی جماعتوں میں شامل ہوگا، جب بتوں کے انہدام کا دور آئے گا تب ایسے مؤمنین سجدہ ریز ہوں گے اور نفسیاتی مریض مالیخولیا کا شکار ہوں گے، لیکن جب جب ایسی تبدیلی جہاں بھی آئے گی انحرافات و تلبیس کرنے والوں کو بہا کر لےجائے گی، پھر ان کے پاس دوبارہ سر اٹھانے کا، کوئی موقع، کوئی چارہ نہیں ہوگا، پوری دنیا میں یہ تبدیلی شروع ہوچکی ہے، کوئی اس مرحلے میں داخل ہوچکاہے تو کوئی داخل ہونے والا ہے تو کوئی گذررہا ہے، سارے کے سارے بت اپنے انتہائی عروج پر پہنچیں گے اس عروج پر اترائیں گے، سچائی سے منہ موڑیں گے، ایک ہیبت ناک غیر علانیہ " عہد اکبری " برپا ہوگا اور جگہ جگہ اکبر و اتاترک مؤمنین صادقین کو آئینہ دار مؤمن کو نہایت بے رحمی سے الزامات دھر دھر کر بائیکاٹ کر کر کے، کردارکشی اور پروپیگنڈے برسا کر نوچتے پھریں گے، جب یہ منظر خون آشام گرمی پر ہوگا تبھی یہ سب دھڑام سے منہ کے بل پٹخ دیے جائیں گے، یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوگا، یہ امم سابقہ میں بھی ہوچکاہے امت محمدیہ میں ہوچکاہے، بارہا ہوا ہے کبھی جزیرہ نمائی تو کبھی ملکی و عالمی سطح پر ہوا ہے، لیکن اب کی سارا عالم اسی گردش میں ہے، اور اس پر قرآن و آثار پکار رہےہیں ۔ فھل من مدکر:؟
سمجھنے والے اور حالات کو عروج و زوال اور آثار سے تطبیق دینے والے خوب سمجھ رہےہیں اور جنہیں نہیں سمجھنا ہے، کج دماغی اور ٹیڑھی طبیعت کا ثبوت دینا ہے اب ان کے لیے مطمئن کرنے جیسا کچھ بھی نہیں بچا ہے سعودیہ کا مسئلہ نفاق کا نہیں اب باطل کے ٹولے کا ہوچکاہے اور یہ دو دو چار کی طرح واضح بھی ہوچکاہے
میں بہت ہی ادب و احترام اور عاجزی کے ساتھ اپنے قائدین عظام سے گذارش کرتاہوں کہ خدارا ہمیں اپنے علماء ہند کے شاندار ماضی کی جھلک دکھلا دیجیے، میں یہ گذارش کرتاہوں سیدنا حضرت مولانا رابع حسنی ندوی مدظلہ سے اور امیر الہند حضرت مولانا سید ارشد مدنی مدظلہ سے، میں آپکے پیروں میں گر کر آپ سے حضرات سے بھیک مانگتا ہوں کہ، علماء و دعاۃ صلحاء و اولیاء کے ان قاتلوں کے ٹولے سے ہم مسلمانان ہند کو علیحدہ فرمادیجیے، دو بول میں کلمه حق کے ذریعے اسلامیان ہند کو اس آل سعود سے علیحدہ فرمادیجیے جو شریعت میں تحریف کررہےہیں اہل الله و عارفین کی پاکیزہ جماعت کو دہشتگرد قرار دے رہےہیں خدا کی قسم ایسے بھیانک جرائم پر الله کی دیر سویر گرفت کا تصور ہی روح فرسا ہے ہم وہاں کے اہل حق کی اگر افرادی کمک نہیں بن سکتے تو کم از کم اس اجماع سکوتی سے ہمیں الگ فرمادیجیے، آپکے دو الفاظ مظلوم اہل حق کے لیے ایمانی غذا بن سکتے ہیں اور کل قیامت کے دن ہم سب ان کے ساتھ ہوں گے ۔
علاوہ ازیں، یہ بات نوٹ کرلینی چاہیے کہ آل سعود کا سقوط شروع ہوچکاہے، ان کے چہرے سے حرمین شریفین کی خدمت کا جھوٹا اور مکروہ نقاب قدرت نے کھینچ کر پھینک دیا ہے ان کی گھناﺅنی اور یہود نواز اصلیت کا سامنا ان کے بدترین سقوط کا آغاز ہے، یقینًا اب مزید تندہی سے اہل حق اس سقوط کی بھینٹ چڑھائے جائیں گے، چن چن کر علما، مبلغین، دعاۃ اور صلحا اذیت گاہوں میں جھونکے جائیں گے بظاہر وہ تعذیب میں ہوں گے، اور خاموشی برتنے والے تسکین میں ہوں گے لیکن اسی دنیا میں چند سالوں کے اندر منظرنامہ الٹنے والا ہے اس کی شروعات ہوچکی ہے، تب یہ سکوت تعذیب کی گھنٹی بجائے گا ۔
مغرور محمد بن سلمان کا عبرتناک حشر شروع ہوچکاہے اسے بھی لکھ لیجیے یہ ظالم جس قدر عروج پر جائے گا اس کی پٹخنی اسی قدر خوفناک ہوگی، عرب کے بعض ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق مغرور ابن سلمان ٹینشن اور ڈپریشن کے دور میں داخل ہوچکا ہے، اب اسے کسی پر بھی اعتبار نہیں رہا ہے، اندرون خانہ بغاوت کی چنگاریاں تیز ہورہی ہیں نیز یہ امر بھی یقینی ہے کہ اب امریکہ و اسرائیل اس ظالم کو اٹھاکر خود ہی پھینک دینگے اور یہ خباثت کا، کاروبار بن نائف کو سونپ دیں، بن سلمان کی ذہنی اذیت کا عالم یہ ہیکہ اپنے محل کے اطراف سیکورٹی کا حصار بڑھاتا جارہاہے، اپنے رشتےداروں سے شدید خوف میں مبتلا ہے معزولی و تقرری کا سلسلہ چل رہاہے، ابھی سے اس کا یہ حال ہوچکاہے کہ، اپنے آپ کو ریاض میں واقع اپنے محل میں محصور کرلیاہے، شدید ترین ضرورت کے علاوہ گیلری میں بھی نہیں نکلتا، بغاوت اور جان لیوا حملے کا یہ خوف اسے آخر کیونکر لاحق ہوا ہے؟ جبکہ اسوقت فوج و انٹلیجنس حتیٰ کہ امریکی دستے بھی اس کی حفاظت کررہےہیں، پھر بھی چین و سکون کیوں غائب ہے "؟ اہل حق کو تو اٹھا اٹھا کر جیلوں میں ٹھونس رہاہے پھر جان لیوا حملے کا خوف کس سے ہے؟ دراصل اسے خوف نہیں، بلکہ اپنے انجام پر یقین ہے کیونکہ تاریخ اپنے کو دوہراتی ہے یہ وہ بھی جانتاہے، خدا کرے ہمارے لوگ بھی اسے سمجھ سکیں ۔

Sunday, October 14, 2018

باغی شہزادی

Image result for ‫شہزادی عابدہ سلطان‬‎

باغی شہزادی 

پاکستان کے قیام سے قبل متحده هندوستان میں 565 نوابی ریاستیں تھیں جنہیں انگریزی میں پرنسلی سٹیٹس کہتے هیں۔ ان میں مسلم ریاستیں بھی تھیں جن پر مسلم فرمانروا حکومت کرتے تھے ,هندو ریاستیں بھی تھیں جن پر هندو راجواڑے یا راج خاندان حکومت کرتے تھے اور سکھ ریاستیں بھی شامل تھیں۔
مسلم ریاستوں میں ریاست حیدرآباد دکن سب سے امیر ریاست تھی اور یہاں کے نواب نظام کا لقب استعمال کرتے تھے۔ یه تمام ریاستیں یا تو مغل بادشاهوں کی عطا کی ھوئ بڑی بڑی جاگیروں پر مشتمل تھیں اور یا انکے باغی ھو کر لوگوں کی قائم کرده تھیں۔ ان میں سے اکثر فرمانروا مغلوں کے وفادار تھے اور انکو لگان ادا کرتے تھے بعد ازاں انگریزوں کے برصغیر کے قبضے کے بعد انگریزوں کو لگان وغیره ادا کرتے رھے اور بلآخر هندوستان کی تقسیم کے بعد هندوستان اور پاکستان میں ضم ھو گۓ اور ان ریاستوں کا علیده وجود ختم ھو گیا۔
آج آپکو ان ریاستوں میں سے ایک مسلم ریاست بھوپال کی ایک باغی شہزادی کے بارے میں بتاتے هیں لیکن پہلے ریاست بھوپال کا مختصر احوال۔

• ریاست بھوپال (Bhopal State)
ریاست بھوپال هندوستان کے وسط میں واقع اٹھارویں صدی میں ہندوستان کی ایک آزاد ریاست تھی۔ جبکہ 1818ء سے 1947ء تک برطانوی ہندوستان میں ایک نوابی ریاست تھی اور 1947ء سے 1949ء تک ایک آزاد ریاست کے طور پر قائم رہی۔ اس کا پہلا دار الحکومت اسلام نگر تھا جو بعد میں بھوپال منتقل کر دیا گیا۔
یه ریاست دوست محمد خان نے قائم کی جو مغل فوج میں ایک افغان سپاہی تھے۔ جو شہنشاہ اورنگزیب کی وفات کے بعد ایک باغی ہو گئے اور کئی علاقوں پر قبضہ کر کے اپنی ریاست قائم کر لی۔ ریاست بھوپال تقسیم ہند کے وقت دوسری سب سے بڑی ریاست تھی، جبکہ پہلی ریاست حیدرآباد تھی۔ 1949ء میں ریاست کو بھارت میں ضم کر دیا گیا۔بھارت کے 15 اگست 1947ء کو آزادی حاصل کرنے کے بعد ریاست بھوپال الحاق کی دستاویز پر دستخط کرنے والی آخری ریاستوں میں سے ایک تھی۔ آخری نواب حمید اللہ خان نواب بھوپال نے 30 اپریل 1949ء کو انضمام کے لیے معاہدے پر دستخط کر دیے۔
• ریاست بھوپال کی خواتین حکمران ::
ریاست بھوپال پریکے بعد دیگرے چار خواتین حکمران تخت نشیں ہوئیں۔ مختصراً اِن خواتین حکمران کو بیگماتِ بھوپال کہا جاتا ہے۔
"بیگم بھوپال" غیر منقسم ہندوستان کی نوابی ریاست بھوپال کی خواتین حکمران کا خطابِ شاہی تھا .

Image result for ‫شہزادی عابدہ سلطان‬‎

• پرنسز عابده سلطان ::
پاکستان کرکٹ بورڈ یعنی پی سی بی کے سابق سربراه شہریار محمد خان کی والده اور ریاست بھوپال کے تخت کی وارث شہزادی عابدہ سلطان کی پیدائش 28 اگست 1913 کو هوئ اور انکی وفات 11 مئی 2002 میں ھوئ . وه ریاست بھوپال کے آخری حکمران نواب حمید اللہ خان کی بڑی بیٹی اور آخری ولی عہد تھیں .
بھارتی ریاست بھوپال کی آخری ولی عہد پرنسز عابدہ سلطان ریاست بھوپال کے آخری حکمران نواب حمیداللہ خان کی تین صاحبزادیوں میں سب سے بڑی تھیں اور اپنے والد کے حکمران بننے کے بعد انیس سو اٹھائیس میں ریاست کی ولی عہد مقرر کی گئیں۔ انہوں نے اپنا بچپن اپنی دادی کے زیر نگرانی جو که ریاست بھوپال کی آخری خاتون حکمران تھیں یعنی بیگم بھوپال سلطان جہان بیگم کے زیر تربیت گزارا، جنہیں وہ ہمیشہ ’سرکار امّاں‘ پکارتی تھیں۔
پرنسز عابدہ سلطان کو ریاست کی حکمرانی کی پوری تربیت دی گئی تھی اور انیس سو تیس میں وہ اپنی والد کی چیف سکریٹری مقرر ہوئیں اور بعد میں کابینہ کی صدر منتخب ھوئیں.
پرنسز عابدہ سلطان بر صغیر کی پہلے خاتون تھیں جنہوں نے ہوا بازی سیکھی اور انیس سو بیالیس میں باقاعدہ پائلٹ لائسنس حاصل کیا۔ وہ ایک منجھی ہوئی شکاری بھی تھیں اور ریاست کے اہم مہمانوں کو شیر کے شکار پر لے جایا کرتیں۔
وہ ہندوستان کی خواتین کی اسکوائش چیمپین تھیں اور ہاکی اور ٹینس کے مقابلوں میں بھی شریک ہوئیں۔ ان کی شادی 1926 میں نواب محمد سرور علی خان سے ھوئ جو که Kurwai State ریاست کوروائ کے نواب تھے۔ اس شادی سے ایک بیٹا تولد ہوا لیکن کچھ ہی عرصے بعد مزاجوں کے اختلافات کے باعث دونوں نے اپنی اپنی ریاستوں میں علاحدہ زندگیاں گزارنی شروع کر دیں .
تقسیم ہند کے تین سال بعد انیس سو پچاس میں پرنسز عابدہ سلطان بھوپال کی ریاست کی ولی عهد کا حق ترک کر کے اپنے اکلوتے بیٹے شہریار محمد خان کے ساتھ براسته انگلینڈ پاکستان منتقل ہو گئیں۔
Image result for ‫شہزادی عابدہ سلطان‬‎
پاکستان میں عابدہ سلطان نہایت سادگی سے رہنے لگیں۔ کراچی کے ملیر علاقے میں انہوں نے اپنا گھر بنایا اور بیشتر کام وہ خود کرتیں تھیں اپنی گاڑی خود ڈرائیو کرتیں ۔ شان اور دکھاوے سے بہت پرہیز کرتی تھیں، جب کسی نے ان سے کہا کہ آپ کو اپنی ذاتی گاڑی پر ریاست کی خاص لال نمبر پلیٹ لگانی چاہیے تو کہنے لگیں کہ جب ریاست ہی نہیں ہے تو اتنے انداز اور نخرے کیوں؟
پرنسز عابدہ سلطان نے پاکستان میں سول سروس جوائن کی برازیل میں پاکستان کی سفیر بھی رہیں، لیکن صرف اٹھارہ ماہ بعد وہ سفارت چھوڑ کر پاکستان واپس آگئیں۔ بعد میں انہوں نے کہا کہ سرکاری نوکری میں انہوں نے اتنی بدعنوانی دیکھی کہ ان سے برداشت نہ ہو سکا۔ پرنسز عابدہ سلطان نے انیس سو چونسٹھ کے صدارتی انتخاب میں ایوب خان کے خلاف محترہ فاطمہ جناح کی حمایت کی مہم میں بھرپور حصہ لیا۔
شہزادی عابدہ سلطان پاکستان کے سابق سکریٹری خارجہ اور برطانیہ اور فرانس میں سابق سفیر اور پی سی بی کے سابق سربراه شہریار محمد خان کی والدہ تھیں۔ کراچی میں ان کا انتقال ہوا۔ شہزادی عابده سلطان کی ولی عہد اور ریاست بھوپال کے تخت سے دستبرداری اور پاکستان منتقل ھونے کے بعد انکی چھوٹی بہن ساجده سلطان ریاست کی آخری ولی عہد اور بعد ازں آخری نواب ثابت ھوئیں۔ انکی پیدائش 4 اگست 1915 اور وفات 5 ستمبر 1995 میں ھوئ۔ انکی شادی دهلی اور هریانه کی سرحد کے قریب واقع ایک چھوٹی ریاست پٹودی کے نواب افتخار علی خان سے 23 اپریل 1939 میں میں ھوئ۔
اس شادی سے انکے 4 بچے تولد ھوۓ جس میں تین بیٹیاں اور ایک بیٹا منصور علی خان پٹودی شامل هیں۔ نواب منصور علی خان پٹودی ریاست پٹودی کے نویں نواب اور اکیس سال کی عمر میں هندوستان کی کرکٹ ٹیم کے کپتان بنے انکا نک نیم ٹائیگر تھا۔ اس طرح پی سی بی کے سابق سربراه شہریار محمد خان انکے یعنی منصور علی خان پٹودی کے خاله زاد بھائ هیں۔
منصور علی خان پٹودی نے خود مشہور اداکاره شرمیلا ٹیگور سے شادی کی تھی اور مشہور فلمی اداکار سیف علی خان انکے بیٹے اور کرینه کپور انکی بہو هیں۔
اکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے "پرنسز عابده سلطان" کی یاداشتوں پر مبنی کتاب  شائع کی ھے۔

دنیائے مسلم کا عظیم ستارا

Image may contain: 1 person

دنیائے مسلم کا عظیم ستارا  

آج امریکہ کے شہر لاس ویگاس میں تاریخ ساز فائٹ لڑی گئی جس میں روسی مسلمان مارشل آرٹسٹ حبیب نورماگومدوف اور آئرش مارشل آرٹسٹ کانر مک گریگر مدِ مقابل تھے۔

یہ تاریخ کا ایک انوکھا مقابلہ تھا۔کانر مک گریگر کو دنیا کا خطرناک ترین مارشل آرٹسٹ اور ناقابلِ شکست تصور کیا جاتا ہے۔لیکن جتنا اچھا وہ فائیٹر ہے اتنا ہی شرپسند اور گالم گلوچ کرنے والا شخص ہے۔مک گریگر کی جانب سے مسلسل حبیب کے مذہب اسلام،خاندان اور ذات کو لے کر حقارت آمیز بیانات آرہے تھے۔ایک پریس کانفرنس میں مک گریگر نے حبیب کو شراب کی بوتل دکھا کر کہا “یہ لو پیو۔”
جس پر حبیب نے کہا ہم شراب نہیں پیتے۔ اس پر حبیب کا مذاق اڑایا گیا۔
مک گریگر طاقت کے نشے میں چور تھا اور حبیب کو کہہ رہا تھا کہ تم میرے سامنے چیونٹی سے زیادہ حقیر ہو اور اس فائٹ کے بعد اپنی ہڈیاں سلامت لے کر واپس نہیں جاؤ گے۔
اس کے جواب میں حبیب نورماگدوف کا ایک ہی جواب ہوتا تھا
“الحمد اللہ۔۔۔!! میرے ساتھ میرا اللہ ہی کافی ہے۔”
ان سب بیانات کی ویڈیوز یو ٹیوب پر موجود ہیں۔

Image may contain: 2 people, people sitting

آج جب یہ مقابلہ شروع ہوا تو لاکھوں مداحوں کے دل کی دھڑکنیں رک سی گئی تھیں۔تمام مسلم دنیا کی نظریں حبیب پر مرکوز تھیں کیونکہ اسلام کا مذاق اڑانے کے بعد یہ مقابلہ صرف کھیل سے کہیں آگے بڑھ چکا تھا۔
یہاں جو مارشل آرٹس سے نا واقف ہیں انہیں یہ بتاتا چلوں کہ یہ عام باکسنگ سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ اس میں Freestyle Kicking & Punching ہوتی ہے اور کچھ سپیشل Moves اتنی خطرناک ہوتی ہیں کہ کبھی کبھی فائیٹرز کی ہڈیاں ٹوٹ جاتی ہیں اور ایسے میچز بھی ہوئے ہیں جن میں فائیٹرز کی موت بھی واقع ہوئی ہے۔اس لیے یہ کھیل بہت خطرناک ہے۔
خیر مقابلہ شروع ہوا تو ساری دنیا حیران رہ گئی جب ناقابلِ شکست اور خطرناک سمجھے جانے والے کانر مکگریگر کو حبیب نورماگدوف نے بری طرح سے پیٹا اور چوتھے راؤنڈ میں ہی مک گریگر کی گردن ایسے دبوچی کہ اس نے Tap Out کرکے ہار تسلیم کر لی۔
یہ مارشل آرٹس کی تاریخ کی ایک عظیم فتح ہے۔خصوصاً مسلم دنیا کیلئے کیونکہ ایک مسلمان فائیٹر نے ایک ناقابلِ تسخیر دشمن کا غرور خاک میں ملا دیا ہے۔
مقابلہ جیتنے کے بعد حبیب کو جب پھر سے مک گریگر کے کوچ کی جانب سے چند نازیبا الفاظ سے پکارا گیا تو اس بار وہ اپنے غصے کو قابو میں نہ رکھ سکا اور میدان سے کود کر اکیلا ہزاروں کے مجمے میں پہنچا اور مک گریگر کے ساتھیوں کو پیٹ ڈالا۔
انٹرنیشنل میڈیا کو بیان دیتے ہوئے اپنے اس رویے پر حبیب نے معذرت کی ہے لیکن ساتھ میں یہ بھی کہا ہے کہ مقابلہ جیتنے کے بعد مخالف ٹیم پر حملہ کرنا میری روایت کے خلاف ہے۔آج آپ کو میرا حملہ کرنا تو نظر آ رہا ہے لیکن یہ نہیں نظر آتا کہ مک گریگر نے میرے مذہب کا،میرے والد کا اور میری قوم کا مذاق اڑایا۔مک گریگر اور اس کے ساتھیوں نے ہماری بس پہ بھی حملہ کیا۔میں بحیثیت انسان خود پہ کتنا کنٹرول کرتا؟؟؟
خیر مک گریگر نے جو غرور کیا اس کا سر ایک مسلمان جانباز نے توڑ کر رکھ دیا اور تمام دنیا کو یہ بتا دیا کہ کسی مسلمان کا مذاق اڑانا انہیں کتنا مہنگا پڑ سکتا ہے۔
اس تاریخ ساز وکٹری پر باکسنگ کے عظیم ستارے “محمدعلی مرحوم” کے بعد ایک اور مسلمان ستارا “حبیب نورماگدوف” مارشل آرٹس کے میدان میں ابھر آیا ہے۔
اللہ ہمیشہ حبیب کو کامیابی سے نوازے۔

تین مینٹ


Image may contain: one or more people

تین مینٹ 

۔ ۔ ۔ ۔ 
مُجھے مرے ہوئے تین چار منٹ ہو چکے تھے۔ لیکن مُجھے یقین نہیں آ رہا تھا که میں بھی کبهی مر سکتا ہوں!
میرے ساتھ والی قبر میں ایک اسمارٹ خوبصورت مردہ تھا۔ میں نے اس سے پوچھا ’’تم نے کبھی سگریٹ پیا؟؟‘‘ اس نے انکار میں سر ہلا دیا۔
کبهی ’’شراب‘" چرس‘" گانجا‘‘..
اس کا سر انکار میں ہلتا رہا- کبھی رش ڈرائیونگ کی، پانی میں اندھی چھلانگ لگائی، تم سڑک پر پیدل چلتے رہے ہو یا تم لوگوں سے الجھ پڑتے ہو‘‘ اس نے انکار میں سر ہلایا اور دکھی آواز میں بولا ’’ میں نے زندگی میں کبھی کوئی غلط کام نہیں کیا‘‘
میں نے پوچھا ’’ تمہاری عمر کتنی تھی؟؟‘‘ اس نے جواب دیا.. ’’صرف 32 سال"
’’پھر تم کیسے مر گئے‘‘ اس نے کہا که میں بھی اس بات پر حیران ہوں، میں کیسے مر سکتا ہوں‘‘
اس نے چیخ کر جواب دیا ’’ میں اپنے لاؤنج میں ٹی وی دیکھ رہا تھا‘ مجھے اچانک سینے میں درد محسوس ہوا۔ میں نے چائے کا کپ میز پر رکھا‘ دُہرا ہوا اور اس کے بعد سیدھا نہیں ہو سکا‘ میں مر گیا‘‘۔
میں نے پوچھا ’’ تمہاری اس وقت سب سے بڑی خواہش کیا ہے؟‘‘
اس نے میری طرف دیکھا اور بولا ’’ تین منٹ کی زندگی!!
میں صرف تین منٹ کے لیے واپس جانا چاہتا ہوں. میرے ابو مجھ سے ناراض تھے، میں اپنی بیوی سے بدتمیزی کرتا تھا، میں نے اپنے بچوں کو کبھی پیار نہیں کیا، میں ملازموں کو وقت پر تنخواہ نہیں دیتا تھا اور میں نے اپنے لان میں گلاب کے پھول لگوائے تھے لیکن میں ان کے پاس نہ بیٹھ سکا. میں نے ہمیشہ اپنے جسم کو اللّه تعالیٰ کی کبریائی سے مقدم رکھا. میں تین منٹ میں سب سے معافی مانگنا چاہتا ہوں اور میں اپنے گلابوں کو چھو کر دیکھنا چاہتا ہوں‘‘۔۔۔۔
ہم سب سناٹے میں تهے که اگلی قبر میں سے ایگزیکٹو قسم کا سیریس مردہ تھا. اس کے چہرے پر کامیاب بزنس مین کا اعتماد تھا. میں نے اس سے پوچھا ’’ تم بھی مر گئے؟‘‘
اس نے افسوس سے سر ہلایا اور جواب دیا ’’ میں بھی اس بات پر حیران ہوں. میں دنیا کے بہترین ڈاکٹر، اعلیٰ ترین اسپتال اور مہنگی ترین دوائیں افورڈ کر سکتا تھا. میں نے دنیا کی مہلک ترین بیماریوں کی ویکسین لگوا رکھی تھی۔
میں امریکا اور یورپ کی بہترین لیبارٹریوں سے ہر چار ماہ بعد اپنے ٹیسٹ کرواتا تھا۔ ہفتے میں دو بار اسٹیم باتھ لیتا تھا، میں ڈائیٹ چارٹ کے مطابق خوراک کھاتا تھا. ہر ہفتے فل باڈی مساج کرواتا تھا. میں کام کا سٹریس بھی نہیں لیتا تھا.
میں نے ہمیشہ بلٹ پروف گاڑی اور ذاتی جہاز میں سفر کیا‘ میرے پاس پانچ ہزار لوگ ملازم تھے. یہ لوگ میرا سارا سٹریس اٹھا لیتے تھے اور میں صرف عیش کرتا تھا مگر پھر مجھے کھانسی آئی‘ میں نیچے جھکا‘ فرش پر گرا اور مر گیا اور میں پچھلے تین منٹ سے یہ سوچ رہا ہوں۔۔۔ میں کیسے مر سکتا ہوں؟؟ میں نے تو کبھی مرنے کے بارے میں سوچا ہی نہیں تھا‘‘
میں نے اس سے پوچھا ’’
تم اب کیا چاہتے ہو؟؟‘‘ اس نے تڑپ کر جواب دیا ’’بس تین منٹ کی زندگی....
میں واپس جا کر اپنی ساری دولت کسی مدرسہ یا ویلفیئر کے لیے وقف کرنا چاہتا ہوں۔ میں اس سے بڑا اسلامک ادارہ یا فری میڈیکل کالج، ملک کا سب سے بڑا تھیلیسیمیا اسپتال یا پھر ملک کی سب سے بڑی سائنس یونیورسٹی بنانے کا حکم دوں گا اور پھر واپس آ جاؤنگا۔
ابھی اس کی بات جاری تھی تیسرا مردہ بول پڑا۔۔۔۔
یہ مردہ چال ڈھال اور شکل شباہت سے سیاستدان دکھائی دیتا تھا۔ اس کے چہرے پر مکاری موجود تھی۔
میں نے پوچھا ’صاحب آپ بھی فوت ہو گئے‘‘؟؟
وہ دکھ میں ڈوبی آواز میں بولا ’’ ہاں...
اور میں اسی بات پر حیران ہوں، سوچ رہا ہوں، میں کیسے مر سکتا ہوں؟؟..
میں تو وہ شخص تھا جس کے ایک نعرے پر لوگ جان دیتے تھے‘ میری گرفتاری‘ میری قید پر میرے ورکر خود سوزی کر لیتے تھے‘ لوگ مجھ سے ٹکٹ لینے کے لیے گیارہ ہزار وولٹ کے کھمبے پر چڑھ جاتے تھے۔
میرے جوتے اٹھا کر سینے سے لگا لیتے تھے اور میں اس وقت تک کوئی چیز کھاتا تھا اور نہ ہی پیتا تھا میرے ڈاکٹر جب تک اس کی تصدیق نہیں کر دیتے تھے. میں ہمیشہ بلٹ پروف شیشوں کے پیچھے رہا اور میں تقریر بھی بلٹ پروف کیبن میں کھڑے ہو کر کرتا تھا۔ میں ہر مہینے عمرے کے لیے جاتا تھا اور ہر دوسرے دن دو لاکھ روپے خیرات کرتا تھا مگر آج اچانک میرے سر میں درد ہوا، میں نے کنپٹی دبائی، میرے دماغ میں ایک ٹیس سی اٹھی، میں نے چیخ ماری اور مر گیا۔
میں نے اس سے بھی پوچھا ’’ آپ کی اس وقت سب سے بڑی خواہش کیا ہے‘‘ اس نے ہنس کر جواب دیا ’’ صرف تین منٹ کی زندگی۔۔۔
میں اس دنیا کے تمام سیاستدانوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں‘ آپ موت سے نہیں بچ سکتے چنانچہ عوام اور اپنے درمیان سے بلٹ پروف شیشے ہٹا دیں، خدمت اور تبدیلی وہی ہے جو آپ آج لے آئے، اگر آج کی ٹرین مس کر دی تو دوبارہ نہیں پکڑ سکیں گے۔ آپ خادم ہیں تو خدمت کریں نعرے نہ لگائیں‘‘
ابھی اس کی بات جاری تھی کہ مولوی صاحب کا مردہ سیدھا ہو گیا۔ ان کے ماتھے پر زہد اور تقویٰ کا محراب تھا‘ گردن عجز اور انکساری کے بوجھ سے جھکی ہوئی تھی۔
میں نے انھیں پوچھا ’’ حضور آپ بھی مر چکے ہیں‘‘
مولوی صاحب بولے ’’ میں بھی اس بات پر حیران ہوں‘۔ میں نے زندگی میں سیکڑوں جنازے پڑھائے، اپنی ہر تقریر میں موت، میدان حشر اور حساب کا ذکر کیا لیکن اس کے باوجود مجھے یقین تھا میں نہیں مروں گا۔
الله تعالیٰ مجھے بہت عمر دے گا اور میں جب تک موت کے فرشتے کو اجازت نہیں دوں گا یہ میرے بستر کے قریب نہیں پھٹکے گا مگر ہوا اس سے الٹ، میں مسجد میں نماز سے فارغ ہوا ابھی مسجد سے نکلنے بھی نہ پایا کہ روح جسم سے پرواز کر گئی۔
مجھے بھی اب صرف تین منٹ چاہئیں۔ میں دنیا کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ لوگوں کو اللّه تعالیٰ ،کتاب الله اور رسول ﷺ کی طریقوں کو اپنانا چاہئے اللّٰه سے اپنی غلطیوں‘ گناہوں اور کوتاہیوں کی معافی مانگو‘ قرآن کریم پڑھو اور رسول ﷺ کی ہر ایک سنت سے اپنی زندگی سنوارتے جاؤ ۔۔۔
[(تم لوگ جو ہمیشہ یہ کہتے رہتے ہو کی ایک بار گھر کی ذمہ داریاں پوری ہو جائے تو پھر نماز پڑھوں گا، داڑھی رکھوں گا، حج کروں گا، خدمت کروں گا ...جیسے دریا کا پانی ختم نہیں ہو گا ہمیں اس پانی سے ہی پار جانے کا راستہ بنانا ہے اسی طرح زندگی ختم ہو جائے گی پر زندگی کے کام اور ذمہ داری کبھی ختم نہیں ہوں گے)

شیر علی آفریدی


شیر علی آفریدی 


! بھولی بسری تاریخ 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ان کا تعلق آفریدی قبیلے کے قوم ادم خیل جواکی سے تھا۔ یہ برٹش آرمی کے سپاہی تھے، ان کی فرض شناسی کی وجہ سے انگریز حکومت کے اعلیٰ افسران کے ساتھ ڈیوٹی لگائی جاتی تھی۔

جس کی وجہ سے شیر علی آفریدی کی انگریز افسران کے ساتھ کافی جان پہچان تھی۔ اس کے ہاتھ سے اپنے ہی قبیلے کے کسی فرد کا قتل ھو گیا اس وقت یہ چھٹیاں منانے تیراہ گئے تھے جب ان سے یہ قتل سرزد ھو گیا۔ واپس ڈیوٹی جوائن کرنے کے بعد انکے افسران کو اس بات کا پتہ چلا تو انکو گرفتار کر کے کالا پانی جیل بھیج دیا۔
وہاں کچھ عرصہ جیل میں رہنے کے بعد اسکی اچھی شہرت کی وجہ سے انکو جلد ہی رہائی ملی اور سزا معاف کردی گئی۔ مگر ان کے دل میں انگریز حکمرانوں اور افسران کے لئے نفرت پیدا ھو گیا۔
Image result for sher ali afridi

اسکی ایک وجہ انکو بلا وجہ جیل بھیجنا تھا کیونکہ قبایلی علاقوں میں اس وقت بھی انگریز قانون نہیں چلتا تھا اور قبایلی علاقے خودمختار تھے مگر شیر علی آفریدی کی اس دلیل کو نہ سنا گیا اور انکو جیل جانا پڑا دوسری وجہ جیل میں موصوف کی دوستی کچھ جہادی لوگوں سے ھوئی تھی جو کہ آنگریزوں کے ساتھ جہاد کرتے وقت گرفتار ھوگئے تھے اور کالا پانی جیل میں قید تھے،مورخین لکھتے ہیں کہ جہادیوں کی تعلیمات نے شئر علی آفریدی کی زہہنیت تبدیل کردی تھی۔
اور وہ انگریزوں کو آقا سمھجنے کے بجائے اپنے اور مسلمانوں کے دشمن سمجنے لگے تھا ۔ جیل سے رہائی کے بعد شیر علی آفریدی کی ڈیوٹی اسی جیل میں لگادی گئی جس میں وہ کچھ عرصہ قید رہے،اب وہ اس تاک میں تھے کہ کسی طریقے سے اپنا بدلہ انگریزوں سے لوں۔
آخر کار 8 فروری 1872 کو انڈیا کے وایسرائے (یعنی ہندوستان کا انگریز بادشاہ) لارٖڈمایئو کالا پانی جیل کے دورے پر گیا جہاں وہ خود اپنے ہاتھوں سے مسلمان علماء اور مسلمانوں کو پھانسی چھڑا کر جیل سے باہر آ رہا تھا تو دروازے پر مامور سپاہی شیر علی آفریدی کو اپنی بدلے کا قسم پورا کرنے اور مسلمانوں کا بدلہ لینے کا سنہری موقع مل گیا۔
جسیے ہی لارڈ مائیو دروازے پر پہنچ گیا تو شیر علی آفریدی نے اسکے پیٹ میں اسکی بندوق کا چھرا گونپ دیا اور 2 گولیاں فائر کئے جو کہ سیدھا لارڈ مائیو کے دل اور سینے سے گزر گئے اور یوں وہ مسلمانوں کا ازلی دشمن جہنم واصل ھوگیا ،شیر علی افریدی کو اسی جگہ گرفتار کیا گیا۔ 

Image result for sher ali afridi

لارڈ ماییو کے قتل کی خبر برطانوی راج کے لئے ایک شدید دھچکا اور مسلمان مجاہدین کے لئے ایک حوصلہ افزا خبر تھی۔ کہتے ہیں کہ لارڈ مایئو کے قتل پر بہت سے ہندوستانی علاقوں میں ازادی کی تحریک کو ایک نئی زندگی ملی اور مجاہدین ایک دفعہ پھر متحد ھونا شروع ھوگئے۔
شیر علی آفریدی سے جب اسکی اس اقدام کے بارے میں دریافت کیا گیا تو اس نے مسکراکر کہا" یہ اللہ کا حکم تھا" اور یوں اس عظیم مجاہد کو 11 مارچ 1873 کو پھانسی دیکر شہادت کی عظیم مرتبے پر فائز ھو گیا۔
کہتے ہیں کہ انگریزوں نے شیر علی آفریدی کی اس جرات اور بہادری کو زاتی عناد اور انگریزوں سے نفرت کا رنگ دینے کی کوشش کی تاکہ ہندوستان میں موجود اسلامی مزاحمت کے تحریکوں کو حوصلہ نہ مل سکے مگر شیر علی آفریدی کے مردانگی نے برطانوی راج کے خلاف اگ کو مسلمانوں میں ایک دفعہ پھر بھڑکادی اور جہاد کا علم ایک نئی تپش کے ساتھ بلند کیا گیا۔
کیا آپ نے کبھی ہماری تاریخ میں شیر علی آفریدی کی اس عظیم کارنامے کو پڑھاھے۔؟
ہماری سنہری تاریخ کو چھپا دیا گیا ھے کیونکہ جو قوم اپنی تاریخ سے سبق سیکھتے ھے وہ کبھی بھی سر نہیں جھکاتی۔

خالصتان تحریک - سکھوں کی انڈیا سے آزادی کی تحریک

خالصتان تحریک

سکھوں کی انڈیا سے آزادی کی تحریک !!

تھوڑا سا اس تحریک اور اس کے پس منظر کو بھی جان لیں۔ 1953ء مشہور سکھ لیڈر ماسٹر تار سنگھ نے کہا ۔۔ ”انگریزوں کے جانے کے بعد بھی ہم غلام ہی ہیں۔ پہلے ہمارے آقا گورے تھے اب کالے ہیں ” 1980ء تک سکھوں کی آواز دبانے کے لیے کم از کم 400 سکھوں کو قتل کیا جا چکا تھا ۔
1984ء کا سال سکھوں پر قیامت بن کر گزرا ۔
Image result for khalistan
انتہاپسند ہندو لیڈر اندرا گاندھی کے حکم پر سکھوں کے مقدس ترین مقام ہری سنگھ گوردوارا (گولڈن ٹیمپل) پر ہزاروں بھارتی فوجیوں نے پوری قوت سے حملہ کر دیا ۔ اس حملے میں ٹینکوں اور توپوں کا بھرپور استعمال کیا گیا ۔ اس وقت وہاں 100 سے 150 کے قریب مزاحمت کار موجود تھے ۔
لیکن اس آپریشن میں وہاں موجود ہزاروں کی تعداد میں آئے بے گناہ سکھ زائرین کو نہایت بے رحمی سے قتل کر دیا گیا۔
صدیوں پرانے اور تاریخی گولڈن ٹیمپل کو تباہ کر دیا گیا اور سکھوں کی مذہبی مقدس ترین عمارت “اکل تخت” کو ملیامیٹ کر دیا گیا۔ یہ ایک ایسا نقصان ہے جسکا ازالہ ممکن ہی نہیں ۔ یہ زخم ہر سکھ کے دل پر لگا ۔ نتیجے میں اندرا گاندھی کو اس کے دو سکھ باڈی گارڈز نے قتل کر دیا۔
Image result for khalistan
اندرا گاندھی کا قتل سکھوں کے لیے ایک اور قیامت لے کر آیا ۔ پورے ملک میں سکھ کش فسادات پھوٹ پڑے اور ہندوؤں نے ہزاروں سکھوں کا قتل عام کر دیا۔ اس ظلم کو ہندو حکومت کی مکمل سرکاری سرپرستی حاصل رہی۔ حالت یہ ہوگئی کہ انڈیا میں جگہ جگہ نالیاں اور گٹر بند ہو گئے، جب کھولے گئے تو وہ سکھوں کی لاشوں سے اٹے پڑے تھے ۔
سکھ بنیادی طور پر ایک بہادر قوم ہے ۔ اس ظلم عظیم کے بعد وہ دبنے کے بجائے ہندو کے سامنے تن کر کھڑی ہو گئی اور اپنی الگ ریاست بنانے کی کوششیں تیز کر دیں ۔ یہاں تک کہ ریاست خالصتان کا جھنڈا، کرنسی، نقشہ اور مہریں وغیرہ تک تیار ہو گئیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت کے صدر پاکستان جنرل ضیاءالحق نے بھی سکھوں کی مدد کی تھی۔ حالات انڈین حکومت کے ہاتھوں سے نکل چکے تھے اور وہ ایک اور آپریشن کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے ۔
تب جنرل ضیاء کو ایک پلین کریش میں شہید کر دیا گیا ۔ بے نظیر کی حکومت نے تاریخی ظلم اور غداری کرتے ہوئے اعتزاز احسن کے ہاتھوں سکھ تحریک کے لیڈروں کی فہرست انڈیا کو دے دی ۔ جس کے بعد ایک بار پھر اس تحریک کو کچل دیا گیا۔
Image result for khalistan

سکھوں کو ماردیا گیا ۔ تاہم ان کے نظریے کو نہیں مارا جا سکا ۔ جس کی وجہ سے بلاآخر ایک عشرے بعد اس تحریک نے ایک نیا جنم لیا اور آہستہ آہستہ دوبارہ اپنی پرانی طاقت حاصل کر لی ۔
کچھ عرصہ پہلے مقبوضہ کشمیر میں ”بن کے رہے گا خالصتان کے” نعرے لگنے شروع ہوئے۔
کل گوردارسپور میں سکھ تحریک کے حامیوں کے حملے نے انکی بھر پور قوت اور موجودگی کا اعلان کر دیا ہے ۔ خالصتان تحریک ایک بار پھر پوری طرح متحرک اور منظم ہو چکی ہے اور وہ آزادی سے کم کسی چیز پر آمادہ نہیں۔
3 کروڑ سکھوں کی آواز کو دبایا نہیں جا سکےگا ۔۔ انڈیا کو ایک بار پھر دو قومی نظریے کا سامنا ہے لیکن اس بار سکھوں کی جانب سے ۔
بلاشبہ ۔۔
” سکھ اور ہندو دو الگ الگ قومیں ہیں یہ اکھٹی نہیں رہ سکتیں....
۔ ۔ ۔ 

Friday, August 10, 2018

بلعم_باعور کتا اور کالی ماتا ! قصص القرآن

Image result for ‫کالی ماتا‬‎
بلعم_باعور
کتا اور کالی ماتا ! قصص القرآن
"بلعم باعور" حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دورکا ایسا عالم تھا جس کے پاس اللہ کا اسم اعظم تھا۔ اس کے پاس اللہ کی کسی کتاب کا ایسا علم تھا کہ وہ جب بھی اس 'اسم اعظم' کے وسیلے سے دعا کرتا تو اللہ اس کی ہر دعا قبول فرماتا تھا۔
بلعم باعور سرزمین شام کا رہنے والا تھا جبکہ اللہ کے نبی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر میں قوم بنی اسرائیل میں مبعوث ہوئے۔ جب حضرت موسی علیہ السلام کے دعا سے قوم بنی اسرائیل کو مصر کے فرعون سے نجات ملی، فرعون سمندر میں غرق ہوا اور قوم بنی اسرائیل بچ کر دوسری طرف نکل آئی تو اس کے کچھ عرصے بعد اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو سرزمین شام کی طرف جباریوں کے خلاف جہاد کا حکم دیا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیلیوں کو لیکر شام کی طرف روانہ ہوئے، اس وقت شام میں بلعم باعور رہتا تھا، اس کے پاس اللہ کے خزانوں میں سے ایک خزانہ 'اسم اعظم تھا'۔ جب شامیوں کو پتا چلا کہ موسیٰ علیہ السلام قوم بنی اسرائیل کو لیکر شام کی طرف آرہے ہیں تو وہ پریشانی کی حالت میں بلعم باعور کے پاس پہنچے۔
یہاں شامیوں اور بلعم باعور کے درمیان وہ گفتگو ہوتی ہے جو قیامت تک کے لیے عبرت کا مقام بنادی جاتی ہے۔ بہت ہی کم لوگ 'بلعم باعور' کو جانتے ہوں گے اس لیے میں نے سوچا کہ اس واقعہ کو زندہ کیا جائے۔ اس واقعہ کو اللہ عزوجل اپنی کتاب قرآن میں ایک مثال کے طور پر بیان فرماتا ہے۔
واقعہ کچھ یوں تھا کہ اللہ عزوجل نے سیدنا موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کو شام کی طرف جہاد کا حکم دیا تو بلعم باعور وہیں جباریوں میں موجود تھا۔ جب موسیٰ علیہ السلام شام کے قریب پہنچے تو جباریوں کے سردار ' بلعم باعور' کے پاس پہنچ گئے اور اس کہا؛
" اے بلعم باعور ! موسیٰ بہت تیز طبیعت کا ہے، وہ یہاں آگیا ہے، اس کے ساتھ بہت بڑا لشکر ہے، وہ ہمیں اپنے شہروں سے نکال دے گا، ہمیں قتل کرے گا اور یہاں بنی اسرائیلیوں کو آباد کردے گا، تمہارے پاس اسم اعظم ہے، تمہاری ہر دعا قبول ہوتی ہے، تم نکلو اور موسیٰ کے خلاف بددعا کرو کہ وہ یہاں سے چلا جائے"۔
بلعم باعور نے کہا " تمہاری خرابی ہو، موسیٰ علیہ السلام اللہ کے نبی ہیں، ان کے ساتھ ملائکہ بھی ہیں، وہ ایمان والے لوگ ہیں، میں ان کے خلاف کس طرح بددعا کروں، میں جانتا ہوں کہ موسیٰ کا اللہ کے ہاں کیا مرتبہ ہے، اگر میں بددعا کروں تو میری دنیا اور آخرت دونوں برباد ہوجائیں گی۔"
یہ سن کر اس کی قوم پھر بھی اصرار کرتی رہی کہ وہ موسیٰ علیہ السلام کے خلاف ضرور بددعا کرے۔ بلعم باعور کا طریقہ یہ تھا کہ وہ جب بھی کوئی دعا کرتا تو پہلے استخارہ کرکے اللہ کی مرضی معلوم کرتا تھا پھر اگر اللہ کی مرضی دعا کے حق میں معلوم ہوجاتی تو پھر دعا کرتا تھا ورنہ نہیں کرتا تھا۔
جب جباریوں نے بلعم باعور سے بےحد اصرار کیا تو اس نے جواب دیا کہ میں اپنے رب کی مرضی معلوم کرتا ہوں۔ پھر اس نے استخارہ کیا اور رات خواب میں اسے جواب ملا کہ "موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کے خلاف بددعا مت کرنا"۔
اس نے اپنی قوم کو بتایا کہ میں نے اپنے رب سے موسیٰ کے خلاف بددعا کی اجازت مانگی مگر میرے رب نے مجھے بددعا کرنے سے منع کردیا ہے۔
قارئین ! یہاں سے شیطان نے اپنا کام شروع کیا۔۔۔ شیطان انہی مواقعے کی تلاش میں ریتا ہے تاکہ بڑے سے بڑے علماء کو بھی سیدھے راستے سے بہکادے۔ اب غور سے پڑھیے کہ شیطان کس طرح اپنا کام کرکے اللہ کے اسم اعظم کے حامل ایک بہت بڑے عالم کو بہکاتا ہے۔
بلعم باعور کا جواب انکار کی صورت میں سن کر اس کی قوم نے شیطان کی مشورے پر چلتے ہوئے اس کے آگے بیشمار ھدیے اور نزرانے پیش کردیے۔ اس کی قوم نے کہا کہ اے بلعم باعور یہ ہدیے اور نزرانے قبول کرو اور اس کے سامنے گریہ و زاری کرتے ہوئے کہنے لگے کہ ایک مرتبہ پھر اپنے رب سے موسیٰ کے خلاف بددعا کی اجازت مانگو۔ مال مفت دل بےرحم کے مصداق بلعم باعور بھی مفت مال دیکھ کر سوچ میں پڑگیا اور بالآخر ان کی باتوں میں آکر اس نے وہ ھدیے اور نزرانے قبول کرلیے اور قوم سے کہا کہ وہ ایک مرتبہ پھر اپنے رب سے موسیٰ کے خلاف بددعا کی اجازت مانگے گا۔
اللہ قرآ ن پاک میں فرماتا ہے؛ " اس کے پیچھے شیطان لگ گیا اور اس کا ساتھی بن گیا اور وہ گمراہ ہو گیا"۔
بلعم باعور نے ایک مرتبہ پھر استخارہ کیا اور رات سو گیا۔ اس دفعہ خواب میں اسے کوئی جواب نہیں ملا۔
اس نے اپنی قوم کو کہا کہ "اس دفعہ مجھے کوئی جواب نہیں ملا"۔ جس پر جباریوں نے اسے کہا کہ اگر تمہارے رب کو موسیٰ کے خلاف بددعا کرنے سے منع کرنا ہوتا تو دوبارہ بھی پہلے جیسا ہی جواب ملتا اس لیے اب تم نکلو اور موسیٰ کے خلاف بددعا کرو تاکہ وہ یہاں سے چلا جائے۔
اللہ فرماتا ہے " فَاَ تْبَعَہُ الشَّیْطٰنُ
(پھر شیطان اس کے پیچھے لگ گیا) شیطان اس کو پیچھے سے ملا اور اس کو آلیا اور اس کا ساتھی بن گیا۔ فَکَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ (پس وہ گمراہ لوگوں میں سے ہو گیا) وہ گمراہ کفار میں سے ہو گیا۔
بلعم باعور اپنی قوم (جباریوں) کے بار بار اصرار کرنے پر مجبور ہوکر ایک بلند پہاڑ پر چڑھا اور اللہ کے نبی موسیٰ علیہ السلام اور اس کے ساتھیوں کے خلاف بددعا کے لیے ہاتھ بلند کردیے۔ اللہ نے اس بدبخت کی زبان کو اس کے اختیار سے چھین لیا۔ وہ جو بددعا کے الفاظ دہراتا گیا وہ اپنی ہی قوم جبرایوں کے خلاف نکلتے گئے اور جو اس نے خیر و برکت کی دعا مانگی وہ موسیٰ علیہ السلام اور اس کے ساتھیوں (بنی اسرائیل) کے حق میں نکلتی گئی۔
جبراریوں نے یہ سنا تو فوراََ بول اٹھے کہ اے بلعم باعور یہ تم نے کیا کردیا۔ موسیٰ کے خلاف بددعا کرنے کا کہا تھا اور تم نے ہمارے خلاف ہی بددعا کردی۔ بلعم باعور کہنے لگا "میری زبان میرے اختیار میں نہیں رہی ہے، یہ الفاظ میری زبان سے خود ہی نکل گئے، اللہ کی قدرت مجھ پر غالب آگئی ہے۔ یہ کہنے کے بعد اس کی زبان باہر نکل کر اس کے سینے پر لٹک گئی۔
بلعم باعور نے اپنی قوم سے کہا : میری تو دنیا و آخرت دونوں برباد ہوگئیں ،اب میں تمہیں ان کے خلاف ایک تدبیر بتاتا ہوں ’’ تم حسین و جمیل عورتوں کو بنا سنوار کر ان کے لشکر میں بھیج دو، اگر ان میں سے ایک شخص نے بھی بدکاری کر لی تو تمہارا کام بن جائے گا کیونکہ جو قوم زنا کرے اللہ تعالیٰ اس پر سخت ناراض ہوتا ہے اور اسے کامیاب نہیں ہونے دیتا، چنانچہ بلعم کی قوم نے اسی طرح کیا، جب عورتیں بن سنور کر لشکر میں پہنچیں تو ایک کنعانی عورت بنی اسرائیل کے ایک سردار کے پا س سے گزری تو وہ اپنے حسن و جمال کی وجہ سے اسے پسند آ گئی۔
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے منع کرنے کے باوجود اس سردار نے اس عورت کے ساتھ بدکاری کی، اس کی پاداش میں اسی وقت بنی اسرائیل پر طاعون مُسلَّط کر دیا گیا۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا مُشیر اس وقت وہاں موجود نہ تھا جب وہ آیا تو اس نے بدکاری کا قصہ معلوم ہونے کے بعد مرد وعورت دونوں کو قتل کر دیا۔ تب طاعون کا عذاب ان سے اٹھا لیا گیا ، لیکن اس دوران ستر ہزار اسرائیلی طاعون سے ہلاک ہو چکے تھے۔
اللہ قرآن پاک میں فرماتا ہے۔۔ "اس کی مثال کتے کی جیسی ہے کہ کہ اس سے لڑو یا چھوڑ دو دونوں صورتوں میں اس کی زبان نکلی ہوئی ہوتی ہے یعنی وہ ہر وقت ہانپتا ہی رہتا ہے."
اس واقعہ کا ذکر قرآن پاک کی سورہ الاحزاب کی آیات نمبر 175، 176 اور 177 میں بطور مثال بیان کیا گیا ہے۔ چونکہ یہ آیات بطور مثال بیان ہوئی ہیں اس لیے ان آیات میں بلعم باعور کا نام نہیں لیا گیا صرف سرسری سا ذکر کیا گیا ہے۔ اگر آپ ان آیات کی تفسیر کا مطالعہ کریں گے تو اس میں اس میں مذکورا شخص کا نام بلعم باعور اور اس واقعہ کی پوری تفسیل ملے گی۔ قرآن میں اس واقعہ کا ذکر ان الفاظ کے ساتھ کیا گیا ہے؛
" وَاتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ الَّذِیْۤ اٰتَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّیْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ (175) "
• ترجمہ:
" اور اے محبوب انہیں اس کا احوال سناؤ جسے ہم نے اپنی آیتیں دیں تو وہ ان سے صاف نکل گیا توشیطان اس کے پیچھے لگا تو گمراہوں میں ہوگیا۔"
وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَ لٰكِنَّهٗۤ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُۚ-فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِۚ-اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْهِ یَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ یَلْهَثْؕ-ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۚ-فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ (۱۷۶) سَآءَ مَثَلَا- ﰳالْقَوْمُ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اَنْفُسَهُمْ كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ (176-177)
• ترجمہ:
" اور ہم چاہتے تو آیتوں کے سبب اُسے اٹھالیتے مگر وہ تو زمین پکڑگیا اور اپنی خواہش کا تابع ہوا تو اس کا حال "کتے" کی طرح ہے تو اس پر حملہ کرے تو زبان نکالے اور چھوڑ دے تو زبان نکالے یہ حال ہے ان کا جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں تو تم نصیحت سناؤ کہ کہیں وہ دھیان کریںکیا بُری کہاوت ہے ان کی جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور اپنی ہی جان کا بُرا کرتے تھے"۔
قارئین !
بلعم باعور جیسے کئی ایسے گمنام اشخاص اس دنیا پر موجود رہے ہیں جن کے پاس اللہ کا کوئی نہ کوئی اسم اعظم تھا اور وہ دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں کسی بھی چیز کو لانے یا خود پہنچ جانے کی صلاحیت بھی رکھتے تھے۔
اگر ہم حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور کا ملکہ بلقیس کا واقعہ پڑھیں تو وہاں بھی سلیمان علیہ السلام کے دربار میں اسم اعظم کا حامل ایسا عالم ملتا ہے جس نے ملکہ بلقیس کا تخت ہزاروں کلومیٹر دور سے محض آنکھ کے پلک جھپکنے میں سلیمان کی دربار میں حاضر کردیا تھا ۔ اس واقعہ کا ذکر بھی قرآن کریم بھی موجود ہے۔
حضرت خضر علیہ السلام کو کون نہیں جانتا، وہ بھی موسیٰ علیہ السلام کے دورکے ہی ایک بندہ خدا تھے جن کے پاس اسم اعظم اور علم لدنی تھا ۔ خضر علیہ السلام ایک ایسے انسان تھے جن کے پاس اللہ کے نبی موسیٰ علیہ السلام سے بھی زیادہ علم تھا۔ تفاسیر میں مذکور ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس علم شریعت تھا لیکن علم لدنی نہیں تھا جبکہ خضر کے پاس علم لدنی تھا مگر علم شریعت نہیں تھا۔ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ عزوجل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس زمین پر مجھ سے زیادہ علم والا شاید ہی کوئی تیرا بندہ ہو، جس کے جواب میں اللہ عزوجل نے فرمایا کہ "خضر" تم سے زیادہ علم والے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ اے اللہ میں اس سے کہاں مل سکتا ہوں۔ اللہ نے فرمایا کہ "بین سدین" یعنی دو دریاہوں کے ملنے کی جگہ پر وہ تمہیں ملے گا۔ پھر موسیٰ علیہ السلام اپنے خادم کو لیکر چل پڑے اور کہا کہ چاہے کتنے ہی سال کیوں نہ لگ جائیں میں رکوں گا نہیں بلکہ چلتا رہوں گا یہاں تک کہ دو دریاہوں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں۔ ان شاء اللہ واقعہ خضر علیہ السلام بھی کبھی تفسیل سے لکھوں گا۔
• لالچی اور نفسانی خواہشات کی پیروی کرنے والے علماء کے لئے نصیحت :::::
واقعہ بلعم باعور بیان کرنے کا مقصد یہ سمجھانا تھا کہ چاہے کوئی کتنا ہی بڑا عالم دین یا مفتی ہی کیوں نہ ہو، شیطان ہر وقت اس کے پیچھے لگا رہتا ہے اور عین موقع پر گمراہ کردیتا ہے۔ بلعم باعور نے محض ھدیے اور نزرانے دیکھ کر اپنے وقت کے نبی اللہ (سیدنا موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام) کے خلاف بددعا کرنی چاہیے۔ ہمت ہے اس کی کہ اللہ کی نبی کے خلاف دعا کرنے نکلا تھا۔ اللہ نے اسے اسم اعظم سے نوازا تھا، اللہ فرماتا ہے ہم چاہتے تو اس کے مرتبے کو مزید اوپر کردیتے لیکن وہ دنیا کے ساتھ چمٹ گیا اور شیطان اس کے ساتھ ہولیا اور یوں وہ گمراہ ہوگیا ۔ اللہ نے بلعم باعور کو "کتے" سے تشبیح دی ہے۔
• ہندؤں کا بھگوان "کالی ماتا" یہی بلعم باعور ہے :::::
یہاں میں ایک بات بتانا چاہوں گا کہ ہندوں کا بھی ایک بھگوان "کالی ماتا" ایسا ہی ہے جس کی زبان باہر کو نکلی ہوئی ہوتی ہے، عین ممکن ہے کہ پرانے وقتوں میں بلعم باعور کے مرنے کے بعد جباری قوم کے بت پرستوں نے "بلعم باعور" کو ہی پوجنا شروع کر دیا ہو اور اس کے مرنے کے بعد شیطان نے انہیں بلعم باعور کا بت بناکر اس کی پوجا کرنے کی ترغیب دی ہو اور وقت گرزنے کے ساتھ ساتھ اس بت کو "کالی ماتا" کا نام دیا گیا۔
ورنہ آج تک دنیا میں کوئی ایسا انسان پیدا نہیں ہوا جس کی زبان باہر نکلی ہوئی ہو۔ یقیناََ ہندؤں کا بھگوان "کالی ماتا" یہی "بلعم باعور" ہے۔
(واللہ اعلم)
۔۔۔۔۔