Showing posts with label جنرل حمید گل. Show all posts
Showing posts with label جنرل حمید گل. Show all posts

Sunday, October 14, 2018

شیر علی آفریدی


شیر علی آفریدی 


! بھولی بسری تاریخ 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ان کا تعلق آفریدی قبیلے کے قوم ادم خیل جواکی سے تھا۔ یہ برٹش آرمی کے سپاہی تھے، ان کی فرض شناسی کی وجہ سے انگریز حکومت کے اعلیٰ افسران کے ساتھ ڈیوٹی لگائی جاتی تھی۔

جس کی وجہ سے شیر علی آفریدی کی انگریز افسران کے ساتھ کافی جان پہچان تھی۔ اس کے ہاتھ سے اپنے ہی قبیلے کے کسی فرد کا قتل ھو گیا اس وقت یہ چھٹیاں منانے تیراہ گئے تھے جب ان سے یہ قتل سرزد ھو گیا۔ واپس ڈیوٹی جوائن کرنے کے بعد انکے افسران کو اس بات کا پتہ چلا تو انکو گرفتار کر کے کالا پانی جیل بھیج دیا۔
وہاں کچھ عرصہ جیل میں رہنے کے بعد اسکی اچھی شہرت کی وجہ سے انکو جلد ہی رہائی ملی اور سزا معاف کردی گئی۔ مگر ان کے دل میں انگریز حکمرانوں اور افسران کے لئے نفرت پیدا ھو گیا۔
Image result for sher ali afridi

اسکی ایک وجہ انکو بلا وجہ جیل بھیجنا تھا کیونکہ قبایلی علاقوں میں اس وقت بھی انگریز قانون نہیں چلتا تھا اور قبایلی علاقے خودمختار تھے مگر شیر علی آفریدی کی اس دلیل کو نہ سنا گیا اور انکو جیل جانا پڑا دوسری وجہ جیل میں موصوف کی دوستی کچھ جہادی لوگوں سے ھوئی تھی جو کہ آنگریزوں کے ساتھ جہاد کرتے وقت گرفتار ھوگئے تھے اور کالا پانی جیل میں قید تھے،مورخین لکھتے ہیں کہ جہادیوں کی تعلیمات نے شئر علی آفریدی کی زہہنیت تبدیل کردی تھی۔
اور وہ انگریزوں کو آقا سمھجنے کے بجائے اپنے اور مسلمانوں کے دشمن سمجنے لگے تھا ۔ جیل سے رہائی کے بعد شیر علی آفریدی کی ڈیوٹی اسی جیل میں لگادی گئی جس میں وہ کچھ عرصہ قید رہے،اب وہ اس تاک میں تھے کہ کسی طریقے سے اپنا بدلہ انگریزوں سے لوں۔
آخر کار 8 فروری 1872 کو انڈیا کے وایسرائے (یعنی ہندوستان کا انگریز بادشاہ) لارٖڈمایئو کالا پانی جیل کے دورے پر گیا جہاں وہ خود اپنے ہاتھوں سے مسلمان علماء اور مسلمانوں کو پھانسی چھڑا کر جیل سے باہر آ رہا تھا تو دروازے پر مامور سپاہی شیر علی آفریدی کو اپنی بدلے کا قسم پورا کرنے اور مسلمانوں کا بدلہ لینے کا سنہری موقع مل گیا۔
جسیے ہی لارڈ مائیو دروازے پر پہنچ گیا تو شیر علی آفریدی نے اسکے پیٹ میں اسکی بندوق کا چھرا گونپ دیا اور 2 گولیاں فائر کئے جو کہ سیدھا لارڈ مائیو کے دل اور سینے سے گزر گئے اور یوں وہ مسلمانوں کا ازلی دشمن جہنم واصل ھوگیا ،شیر علی افریدی کو اسی جگہ گرفتار کیا گیا۔ 

Image result for sher ali afridi

لارڈ ماییو کے قتل کی خبر برطانوی راج کے لئے ایک شدید دھچکا اور مسلمان مجاہدین کے لئے ایک حوصلہ افزا خبر تھی۔ کہتے ہیں کہ لارڈ مایئو کے قتل پر بہت سے ہندوستانی علاقوں میں ازادی کی تحریک کو ایک نئی زندگی ملی اور مجاہدین ایک دفعہ پھر متحد ھونا شروع ھوگئے۔
شیر علی آفریدی سے جب اسکی اس اقدام کے بارے میں دریافت کیا گیا تو اس نے مسکراکر کہا" یہ اللہ کا حکم تھا" اور یوں اس عظیم مجاہد کو 11 مارچ 1873 کو پھانسی دیکر شہادت کی عظیم مرتبے پر فائز ھو گیا۔
کہتے ہیں کہ انگریزوں نے شیر علی آفریدی کی اس جرات اور بہادری کو زاتی عناد اور انگریزوں سے نفرت کا رنگ دینے کی کوشش کی تاکہ ہندوستان میں موجود اسلامی مزاحمت کے تحریکوں کو حوصلہ نہ مل سکے مگر شیر علی آفریدی کے مردانگی نے برطانوی راج کے خلاف اگ کو مسلمانوں میں ایک دفعہ پھر بھڑکادی اور جہاد کا علم ایک نئی تپش کے ساتھ بلند کیا گیا۔
کیا آپ نے کبھی ہماری تاریخ میں شیر علی آفریدی کی اس عظیم کارنامے کو پڑھاھے۔؟
ہماری سنہری تاریخ کو چھپا دیا گیا ھے کیونکہ جو قوم اپنی تاریخ سے سبق سیکھتے ھے وہ کبھی بھی سر نہیں جھکاتی۔

Monday, June 18, 2018

پاکستان کے روحانی پہلو !

Image result for pakistan


پاکستان کے روحانی پہلو۔۔


پاکستان آج کی رات یعنی 27 رمضان کو وجود میں آیا۔ مولانا طارق جمیل صاحب کے بقول یہ اتفاق نہیں بلکہ انتخاب تھا۔ اللہ نے اس عظیم 
ریاست کو وجود میں لانے کے لیے سال کی سب سے بہترین رات منتخب کی تھی۔ بہت سے نیک لوگوں کو یقین ہے کہ جس رات پاکستان وجود میں آیا اس رات لیلاۃ القدر تھی۔
مستقبل کے حوالے سے حضورﷺ کی کئی احادیث میں سعودی عرب سے مشرق کی سمت کسی ریاست کا ذکر آتا ہے جو اسلام کی نشاۃ ثانیہ میں اہم ترین کردار ادا کرے گی مثلاً
غزوہ ہند کی مشہور حدیث جس کے مطابق ایک اسلامی ملک پہلے ہندوستان فتح کرے گا اور پھر اہل یہود کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑے گا۔
اسی طرح روایات ہے کہ حضورﷺ نے مشرق کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ میرا دین پوری دنیا میں کمزور ہوگا تو وہاں سے اٹھے گا۔
ایک اور موقعے پر فرمایا کہ مجھے مشرق سے ٹھنڈی ہوائیں آرہی ہیں۔ جس پر علامہ اقبال نے قسم کھائی کہ ۔۔۔۔
میر عرب کو آئی تھی جہاں سے ٹھنڈی ہوائیں 
وہی میرا وطن ہے وہی میرا وطن ہے

اب ذرا یہ چیک کرتے ہیں کہ کیا پاکستان کے متعلق واقعی علامہ اقبال کا گمان درست تھا اور حضورﷺ کی احادیث میں پاکستان ہی کی طرف اشارہ تھا!
یہ تو آپ نے اکثر سنا ہوگا کہ اسلام کی 1400 سالہ تاریخ میں مدینے کے بعد پاکستان دوسری ریاست ہے جو اسلام کے نام پر بنی ہے۔ لیکن مدینے سے مماثلت کا معاملہ صرف یہیں تک محدود نہیں !
مدینے کو اس وقت مشرکوں ( بت پرستوں) سے خطرہ تھا ان مشرکوں کی مدد یہودی کر رہے تھے۔
پاکستان کو بھی اس وقت دنیا کی سب سے بڑی مشرک (بت پرست) ریاست انڈیا سے خطرہ ہے جس کی مدد اسرائیل یعنی یہودی کر رہے ہیں۔
مدینے کی مشرکوں کے خلاف تین بڑی جنگیں ہوئیں اور چوتھی جنگ فیصلہ کن تھی جس میں مکے کو فتح کر لیا گیا تھا۔
پاکستان کی مشرکوں ( انڈیا ) کے ساتھ اب تک تین بڑی جنگیں ہو چکی ہیں۔ چوتھی جنگ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ فیصلہ کن ہوگی۔
دونوں کے نام کا مفہوم بھی ایک ہی ہے۔ پاکستان کا مطلب ہے " پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ " ۔۔۔۔۔۔۔ مدینہ کو پہلے مدینہ النبی اور بعد میں مدینہ طیبہ کہا جانے لگا جس کا مطلب ہے " پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ"

Image result for pakistan
حضرت نعمت اللہ شاہ ولی نے آج سے 850 سال پہلے نہ صرف قیام پاکستان کی پیشن گوئی فرمائی تھی بلکہ اس ملک سے اللہ نے جو کام لینے ہیں ان کے بارے میں بھی بتا دیا تھا ۔ قیام پاکستان سے پہلے نعمت اللہ شاہ ولی نے فرمایا تھا کہ
بعد ازاں گیرد نصارے ملک ہندویاں تمام ۔۔۔۔۔ تاصدی حکمش میاں ہندوستاں پیدا شود
یعنی انگریزوں کی حکومت صرف ایک صدی تک قائم رہے گی۔ نعمت اللہ شاہ کے اس شعر پر لارڈ کرزن نے پابندی لگوا دی تھی۔

اس کے بعد قیام پاکستان سے متعلق فرماتے ہیں 
دو حصص چوں ہند گردو خون آدم شدرواں ۔۔ شورش و فتنہ فزون از گماں پیدا شود 
یعنی ہندوستاں دو حصوں میں تقسیم ہوجائیگا اور بہت زیادہ شورش اور خون خرابہ ہوگا۔

پھر فرماتے ہیں ۔۔
مومناں یا بنداماں در خظہ اسلاف خویش ۔۔۔۔۔۔۔۔ بعدازرنج و عقوب بت بخت شاں پیدا شود 
یعنی مسلمان دراسلام میں امان حاصل کرلینگے۔ اس شعر میں ان مہاجرین کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے ہندوؤں کے ظلم ستم سہنے کے بعد پاکستان آکر آمان پائی۔

65ء کی جنگ کا بھی ذکرکیا ہے کہ 17 دن چلے گی اور مومنوں کو اللہ فتح دے گا لیکن 71ء کی جنگ کے حوالے سے دلچسپ شعر کہا کہ 
نعرہ اسلام بلند شد بست دسہ ادوارچرخ ۔۔۔۔ بعد ازاں بارد گریک قہر شاں پیدا شود 
یعنی اسلام کا نعرہ 23 سال تک بلند رہے گا جس کے بعد دوسری مرتبہ ان پر قہر ٹوٹے گا۔ آپ جانتے ہیں کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا لیکن ٹھیک 23 سال بعد سازشیوں نے اس میں لسانیت کا زہر گھول دیا اور بنگالی کا نعرہ بلند کیاگیا تب بنگلہ دیش ہم سے الگ ہوا۔ اپنی اس کامیابی پر اندرا گاندھی نے بڑے مغرور انداز میں کہا تھا کہ " آج نظریہ پاکستان کو ہم نے خلیج بنگال میں غرق کر دیا " ۔۔ یہ وہی نظریہ ہے جسکا اوپر شعر میں ذکر ہے۔

اشعار بہت زیادہ ہیں نیٹ پر باآسانی مل جائنگے ہم یہاں خلاصہ لکھتے ہیں کہ نعمت اللہ شاہ نے پاکستان کو ایک زبردست جنگجو لیڈر ملنے کی پیش گوئی کی ہے جس کی قیادت میں پاکستان کی انڈیا کے ساتھ ایک آخری اور فیصلہ کن جنگ ہوگی جس میں ابتداء میں پاکستان اٹک تک خیبر پختنواہ اور پنجاب کے کئی علاقے کھو دے گا۔ لیکن مسلمان جنگ جاری رکھینگے جس کے بعد بلاآخر انڈیا کو مکمل طور پرمغلوب کر دیا جائیگا۔
جہاں تک جنگجو حکمران کی بات ہے تو گمان غآلب ہے کہ وہ کوئی سپاہ سالار ہی ہو سکتا ہے۔ ہم نے پاکستان کی 68 سال تاریخ میں دیکھ لیا ہے کہ جرنیل ہمیشہ پاکستان کے لیے بہترین حکمران ثابت ہوئے ہیں۔
اس کے علاوہ ان اشعار کے حوالے سے دو چیزیں ایسی ہیں جو آج ہمیں نظر آرہی ہیں۔ ایک یہ کہ اس نے پیش گوئی کی تھی کہ پاکستان کی مدد منگول کرینگے۔ ان کے دورمیں چینی قوم کو منگول بھی کہا جاتا تھا۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ انڈیا کے خلاف چین اور پاکستان متحد ہوچکے ہیں۔
دوسری اٹک تک کا علاقہ کھونے کی بات کو اس تناظر میں دیکھیں کہ افغانستان میں موجود 2 لاکھ افغان نیشنل آرمی سخت پاکستان دشمن ہے اور انکی قیادت انڈیا کے زیراثر ہے۔ ان کا پاکستان میں اٹک تک کے علاقے پر دعوی بھی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ جب پاک فوج انڈیا کے ساتھ مصروف جنگ ہو تو افغانستان کی کٹھ پتلی حکومت کو موقع مل جائے پاکستان پر مغربی سمت سے حملہ کرنے کا اور پاک فوج کی غیر موجودگی میں ان کے لیے ان علاقوں میں پیش قدمی کرنا مشکل نہیں ہوگا۔ گمان غالب ہے کہ ان کے خلاف پاکستان کی مدد افغان طالبان کرینگے!
نعمت اللہ شاہ ولی کی یہ پیشن گوئیاں یہ بھی ثابت کرتی ہیں کہ غزوہ ہند لڑنے والی جس عظیم فوج کا حضورﷺ نے ذکر کیا ہے وہ پاک فوج ہی ہے۔ اس پر ایک دلیل اور بھی ہے۔ غزوہ ہند والی حدیث میں لڑنے والی فوج اسرائیل کے خلاف بھی جنگ کرے گی یعنی یہودیوں سے۔ آج اس خطے میں جو اسلامی ممالک موجود ہیں ان میں سے صرف پاکستان ہی واحد اسلامی ملک ہے جسکی بیک وقت اسرائیل اور انڈیا کے ساتھ معاملات خراب ہیں اور کئی جنگیں بھی ہوچکی ہیں۔ یہ شرط نہ افغانستان پوری کر سکتا ہے نہ بنگلہ دیشن اور نہ ہی ایران۔
اب نعمت اللہ شاہ ولی کی پیشن گوئیوں کے حوالے سے ایک چھوٹا سا واقعہ آپکو سناتے ہین۔ 
نعمت اللہ شاہ کی پیشن گوئیوں کو سن کر ایک 25 سال کا جوان 1857ء کی جنگ آزادی میں شریک ہوا ۔ وہ فتح کے لیے پر امید تھا لیکن اسی جنگ کے دوران اس نوجوان کو ایک بزرگ ملے اور اس سے کہا کہ " تم کو جس فتح کی خوشخبری دی گئی تھی یہ وہ نہیں ہے اس میں ابھی 90 سال باقی ہیں ۔ ایک ملک بنے گا جو عالم اسلام کا مرکز بنے گا اور تم اسکو دیکھو گے۔
یہ سن کر وہ نوجوان جنگ چھوڑ کر چلا گیا اور انتظار کرتا رہا یہاں تک کہ ٹھیک 90 سال بعد پاکستان بنا ۔ وہ پھر بھی زندہ رہا اور جب اسلام آباد بنا تب وہ 160 سال کی عمر میں فوت ہوا اور اسلام آباد کے ایچ 8 قبرستان میں دفن ہوا ۔ جہاں اسکی قبرکی تختی پر اس معاملے کا ذکر بھی ہے۔ انکی قبر قدرت اللہ شہاب کی قبر کے نزدیک ہے۔ قبر پر انکا نام عبد اللہ محبوب لکھا ہوا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ شخص حضرت مہاجر مکی تھے۔ واللہ اعلم

ہالینڈ کی نیشنل لائبریری میں ہاتھ لکھی ہوئی ایک دستاویز موجود ہے جو حضرت بری امام سے منسوب ہے۔ اس میں انہوں نے لکھا ہے کہ " ایک دن ہمارا یہ شہر تمام عالم اسلام کا مرکز بنے گا " ( بری امام صاحب اسلام آباد میں دفن ہیں) وہ آج سے 300 سال پہلے گزرے ہیں۔
شیخ لہند نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی لیکن پاکستان بن جانے کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ " اب پاکستان مسجد کے حکم میں ہے اور اسکی حفاظت فرض ہے " ۔۔ 
مولانا اشرف علی تھانوی نے قیام پاکستان سے غالباً 6 سال پہلے اپنی بیوی کو وصیت کی تھی کہ " پاکستان بن جائیگا تم وہاں چلی جانا " ۔۔۔

خان آف قلات کو حضورﷺ خواب میں آئے تھے کہ " پاکستان کے ساتھ شامل ہوجاؤ " ۔۔۔
صوفی برکت علی نے فرمایا تھا کہ " ایک دن پاکستان کی ہاں اور ناں میں دنیا کی ہاں اور ناں ہوگی۔ اگر ایسا نہ ہوا تو میری قبر پر آکر تھوک دینا" ۔۔۔
بات صرف ہمارے بزرگوں تک محدود نہیں۔ کفار کے بڑوں نے بھی اس حوالے سے پیشن گوئیاں کر رکھی ہیں مثلاً
ہندو ہر بڑا کام کرنے سے پہلے حساب کتاب کرتے ہیں زائچے بناتے ہیں، مہورتیں نکلاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ قیام پاکستان کے بعد گاندھی نے پنڈت و نجومی بلوا کر حساب کتاب کیا اور پھر اعلان کیا کہ پاکستان اور انڈیا میں 4 جنگیں ہونگی اور چوتھی جنگ فیصلہ کن ہوگی۔ گاندھی نے یہ نہیں بتایا کہ جنگ کا فاتح کون ہوگا۔ تاہم یہ ضرور ہے کہ اس کے بعد اس نے انڈیا کو پاکستان کے خلاف جنگ سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی یہانتک کے پاکستان کو اسکا حق دلوانے کے لیے مرن بھرت یا بھوک ہڑتال کر دی تھی جس پر اسکو قتل کر دیا گیا۔
اسی طرح ڈیوڈ بن گوریان جو کہ اسرائیل کے بانیوں میں سے تھا اس نے پاکستان کے حوالے سے پیشن گوئی کی تھی کہ "بین الاقوامی صہیونی تحریک کو کسی طرح بھی پاکستان کے بارے میں غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہئیے۔ پاکستان درحقیقت ہمارا اصلی اور حقیقی نظریاتی جواب ہے۔پاکستان کا ذہنی و فکری سرمایہ اور جنگی و عسکری قوت و کیفیت آگے چل کر کسی بھی وقت ہمارے لیے باعث مصیبت بن سکتی ہے ہمیں اچھی طرح سوچ لینا چاہئے ۔بھارت سے دوستی ہمارے لیے نہ صرف ضروری بلکہ مفید بھی ہے ہمیں اس تاریخی عناد سے لازماً فائدہ اٹھانا چاہئیے جو ہندو پاکستان اور اس میں رہنے وا لے مسلمانوں کے خلاف رکھتا ہے ۔ یہ تاریخی دشمنی ہمارے لیے زبردست سرمایہ ہے۔لیکن ہماری حکمت عملی ایسی ہونی چاہئیے کہ ہم بین الاقوامی دائروں کے ذریعے ہی بھارت کے ساتھ اپنا ربط و ضبط رکھیں"۔۔۔۔۔۔ {یروشلم پوسٹ 9 اگست 1967}
عالم کفر کو چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ 

Image result for pakistan

عیسائیت، یہودیت، مشرکین اور ملحدین
بہت کم لوگوں کو احساس ہوگا کہ پاکستان اس وقت بھی ان چاروں سے بیک وقت برسرپیکار ہے اور ان سب کے لیے درد سر بنا ہوا ہے۔ 
مشرکین کی نمائندہ ریاست انڈیا ہے جبکہ یہودیوں کی اسرائیل۔ ان کے خلاف پاکستان کی جنگ سے ہم سب واقف ہیں۔ 
جدید الحاد کی سب سے بڑی نمائندہ ریاست روس ہے جو اپنے وقت کی سپر پاور تھی۔ جب وہ اپنے الحادی نظریات کو پوری طاقت سے دنیا بھر میں پھیلا رہی تھی تب پاکستان کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچی۔ 
امریکہ بظاہر پاکستان کا اتحادی ہے لیکن اب دنیا جان چکی ہے کہ افغانستان میں امریکہ کو درحقیقت کس کے ہاتھوں شکست کا سامنا ہے۔

یہ پیشن گوئی قدرت اللہ شہاب کی کتاب میں بھی موجود ہے جس کے مطابق جب وہ 1959ء میں یونیسکو کے ایگزیکٹیو بورڈ کے ممبر تھے تو اس وقت ان کے تعلقات ایک یورپی باشندے سے ہوئے جس نے قدرت اللہ شہاب کو بتایا کہ " کہ اگرچہ امریکہ اور روس ایک دوسرے کے حریف ہیں لیکن پاکستان کو دونوں اپنا دشمن سمجھتے ہیں" ۔۔۔
پھر اس نے وضاحت کی کہ " یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ پاکستان کی مسلح افواج کا شمار دنیا کی اعلی ترین افواج میں ہوتا ہے اور یہ حقیقت نہ روس کو پسند ہے نہ امریکہ کو " ۔۔۔
" روس کی نظریں افغانستان اور پھر بحیرہ عرب پر ہیں جن کو قابو کرنا پاک فوج کی موجودگی میں نہ ممکن ہے " ( جنرل ضیاء نے اسکو بعد میں سچ ثابت کر دیا )
"جبکہ امریکہ اسرائیل کا حلیف ہے اور جانتا ہے کہ اگر اسرائیل کے خلاف عالم اسلام کی جانب سے عالمی طور پر جہاد کا اعلان ہوا تو پاکستان کی افوج اور نہتی آبادی بھی کسی حکم کا انتظار کیے بغیر اسرائیل پر چڑھ دوڑے گی " ( یہ پیشن گوئی غزوہ ہند والی حدیث میں بھی ہے اور نعمت اللہ شاہ ولی نے بھی یہی بات کی ہے )

اکھنڈ بھارت، گریٹر اسرائیل اور صہیونی تحریک کے راستے کی سب سے بڑی رکاؤٹ پاکستان ہے۔ انڈیا پاکستان کی وجہ سے اب تک صرف کشمیر پر قابونہیں پا سکا۔ اسرائیل نے دو بار آگے بڑھنے کی کوشش کی تو پاکستان کے ہاتھوں رسوا ہوا۔ روس پاکستان کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچا۔ امریکی جنگی ماہرین کے مطابق امریکہ کی افغانستان میں ناکامی کی وجہ پاکستان ہے!
پاکستان کے ساتھ ایک اور معاملہ بھی عجیب و غریب ہے کہ پاکستان کو نقصان پہنچانے والوں کو اللہ زمین میں ہی نشان عبرت بنا دیتا ہے۔ مثلاً سقوط ڈھاکہ کے ذمہ دار سارے کردار جنہوں نے پاکستان کو توڑا تھا اللہ نے انکو انکے خاندانوں سمیت مٹادیا۔
ذولفقارعلی بھٹو کا سارا خاندان غیر طبعی موت مرا اور آج درحقیقت اسکا کوئی نام لیوا موجود نہیں۔ بلاول بھٹو حقیقت میں بلاول زرداری ہے۔ 
شیخ مجیب الرحمن اپنے پورے خاندان سمیت مارا گیا صرف اسکی ایک بیٹی باقی بچی۔ 
اسی طرح اندرا گاندھی نہ صرف خود قتل ہوئی بلکہ اسکا بیٹا راجیو گاندھی بھی قتل ہوا اور دوسرے بیٹے سنجے گاندھی کا 33 سال کی عمر میں پلین کریش ہوگیا یوں اسکا پورا خاندان ختم ہوگیا۔

دنیا بھر میں اس وقت عالم اسلام کے خلاف آپریشن ہارنسٹ نسٹ کے نام سے ایک پراکسی جنگ جاری ہے جس میں خوارج کے ذریعے اسلامی ملکوں کو بہت تیزی سے تباہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں اس جنگ میں عالمی قوتوں کو شکست ہوئی ہے اور خوارج کو عملی اور نظریاتی دنوں محاذوں پر پسپائی کا سامنا ہے۔ پاکستان کے خلاف لڑنے والوں کا کیا حال ہوتا ہے ! 


طاہر یلد شیف کو روس نے " شیطان " کا نام دے رکھا تھاکیونکہ انکا خیال تھا کہ یہ مرتا نہیں ہے۔ اس شخص کوامریکہ ازبکستان میں روس کے خلاف سال ہا سال تک استعمال کرتا رہا۔ لیکن اس شخص کو جب پاکستان کے خلاف لانچ کیا گیا تو کچھ ہی عرصے بعد یہ پاک فوج کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچا۔
اسی طرح سری لنکا کے خلاف لڑنے والی تامل تحریک کے لیدڑپربھاکرن کو لوگ سورج دیوتا کہتے تھے کیونکہ اس کے بارے میں مشہور تھا کہ اسکو موت نہیں آتی۔ لیکن جب ان تاملز نے پاکستان پر لاہور میں حملہ کیا تو جواباً پاک فوج نے سری لنکن فوج کے ساتھ ملکران تاملز کے خلاف آپریشن کیا جس میں وہ سورج دیوتا مارا گیا۔ 
عجیب بات ہے کہ پاکستان کے خلاف لڑنے والے اکثر خارجیوں کو تین چار سال سے زیادہ کی مہلت نہیں ملتی!

اب اس مضمون کو سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ذرا ان "اتفاقات" پر غور فرمائیے!
پاکستان آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا اسلامی ملک نہیں لیکن اس کے باوجود دنیا میں سب سے زیادہ نمازی، روزے دار، زکواۃ دینے والے، مساجد، علماء، حفاظ اور حاجی پاکستان میں پائے جاتے ہیں۔ 
پاکستان دنیا میں دعوت و تبلیغ کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ 

Image result for pakistan
پاکستان دنیا میں جہاد کا سب سے بڑا مرکز ہے۔

پاکستان کو اللہ نے دنیا میں سب سے اہم سٹریٹیجک لوکیشن دی ہے اور دنیا کی کئی بڑی سپر طاقتیں بیک وقت کسی نہ کسی طرح پاکستان پر انحصار کرتی ہیں۔ یہی حال پاکستانی سمندر کا بھی ہے خاص کر گوادر کا۔
پاکستان کو اللہ نے 5 موسم دئیے ہیں اور دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام۔ کہا جاتا ہے کہ اگر پاکستان صحیح معنوں میںٰ اپنی زمینوں سے پیدوار لے تو پورے براعظم کی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔
پاکستان کے پاس بے پناہ معدنی وسائل ہیں جن میں صرف تھر کا کوئلہ ہی سعودی عرب کے کل تیل کے ذخائر سے زیادہ مالیت کا ہے۔
پاکستان سوئی نہیں بنا سکتا لیکن دنیا کے جدید ترین میزائل بنا چکا ہے۔ پاکستان کے نیوکلئر میزائل پروگرام کا مقابلہ اس وقت دنیا میں صرف امریکہ اور چین کر سکتا ہے۔ باقی ممالک کو اس معاملے میں پاکستان پیچھے چھوڑ چکا ہے۔
کیا یہ سب واقعی محض اتفاقات ہیں ؟؟؟
پاکستان کے خلاف بے پناہ سازشیں ہونے کے باوجود اب تک اللہ نے اسکو بچایا ہے۔ کیسے کیسے ؟ اس پر اگر لکھا جائے تو شائد ایک پوری کتاب کی ضرورت پڑے۔ یہاں 65ء کی جنگ کے واقعات بھی نہین لکھے جا سکے جس میں اللہ نے بلکل ویسے پاکستان کی مدد فرمائی تھی جیسے اصحاب بدر کی فرمائی تھی۔
واللہ پاکستان اللہ کے رازوں میں سے ایک راز ہے۔ یہ محض زمین کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ ایک مقدس امانت ہے۔ اس کے ساتھ آنے والے وقت کے بہت سے اہم ترین معاملات وابستہ ہیں۔ جو شخص اس امانت میں خیانت کرے گا وہ اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ پائیگا!
علامہ اقبال جس کوایک دنیا اللہ کا ولی مانتی ہے نے اپنی عمر کا آخری حصہ اس پاکستان کے بارے میں لوگوں کو آگہی دیتے گزار دیا!
صرف ایک مضمون میں پاکستان کے حوالے سے سب کچھ نہیں سمیٹا جا سکتا۔ کوشش کی ہے کہ کچھ چیدہ چیدہ معاملات پر لکھا جائے۔ آج بڑی خاص رات ہے جس جس ساتھی تک یہ پیغام پہچ رہا ہے اس سے اپیل ہے کہ آج کی رات اپنے گناہوں سے توبہ کرے اور پاکستان کے لیے خاص طور پر دعا کرے۔

Wednesday, May 30, 2018

آپ تھوڑی سی زحمت کیجیئے

Image may contain: 1 person, beard

احبابٍ گرامی آپ تھوڑی سی زحمت کیجیئے
گوگل سرچ میں الیکشن کمیشن کی سائیٹ کھولیں۔
نواز شریف صاحب 'ِعمران خان، زرداری اور مولانا فضل الرحمن صاحب کے مالی اثاثہ جات کی تفصیلات چیک کریں۔
نواز شریف عمران خان اور زرداری ارب پتی جبکہ مولانا فضل الرحمان کے کل اثاثہ جات صرف 64 لاکھ روپے ھونگے ۔
اس سے بھی کچھ آگے جائیں۔
ہمت کیجیئے۔ دو چار دن مولانا کے پاس گزاریں ۔ پھر دو چار دن نواز شریف کے قریب رہ کر دیکھیں۔ اور ایک آدھ دن عمران خان اورزرداری کی صحبت میں رھیں ۔ آپ پر کچھ ھی دیر میں واضح ھو جائیگا کہ مولانا کا لائف سٹائل ان دونوں کے سامنے ایک مسجد کے مولوی سے زیادہ بڑھ کر نہیں ھو گا ۔ جبکہ خان صاحب اور نواز شریف شہنشاہانہ طرز زندگی کے مالک ھونگے ۔
آپ کچھ اور ہمت کیجیئے ۔ عمران خان صاحب کی اولاد اور نواز شریف صاحب کی اولاد کا موازنہ مولانا صاحب کے بچوں کے ساتھ کیجیئے ۔ مولانا کے بچے آپ کو مدرسے کے طالبعلم اور استاد نظر آئینگے ۔ جن کی تعلیم کسی غریب لوکل مدرسے کی ھو گی ۔ جو دال ساگ کھا کر مدرسے کی چٹائیوں پر سو کر پلے بڑھے ھونگے ۔ جبکہ عمران خان کے بچے لندن میں تعلیم حاصل کر رہے ھونگے ۔ ان کی زندگی یورپین ماحول میں پروان چڑھ رھی ھو گی ۔ ان کا رہن صحن Elite Class جیسا ھو گا ۔ اسی طرح نواز شریف کے بچے خود ارب پتی اور بڑے بزنس مین نظر آئینگے ۔۔۔
Image result for fazlur rehmanآپ تھوڑی سی ہمت اور کیجیئے ۔
ملک کے اندر اور باہر عمران خان اور نواز شریف کی پراپرٹی کا Comparison مولانا فضل الرحمن صاحب کی پراپرٹی سے کریں ۔ آپ کو حیرانگی ھو گی کہ مولانا کا اپنا ذاتی ایک فلیٹ نہ اسلام آباد میں ھے اور نہ لاہور میں ۔ لندن تو دور کی بات ھے ۔۔ جبکہ عمران خان اور نواز شریف کے محلات آپ کو کھلی آنکھوں نظر آئینگے ۔۔
ٹہریئے !

آپ کچھ ہمت اور کیجیٰئے ۔
این آر او کے تحت معاف کیے گے 8 ہزار 5 سو افراد کی فہرست چیک کریں ۔ پاناما میں موجود 450 ناموں کو ایک ایک کر کے پڑھیں ۔ ان میں مولانا سمیت ان کی جماعت کے ایک شخص کا نام آپ کو نہیں ملے گا ۔ تو سب سے بڑا چور کون ھوا مولانا یا وہ افراد اور پارٹیاں جن کے نام پاناما اور این آر او میں ھیں ؟
آپ عدالتوں کا ریکارڈ چیک کیجیئے ۔ عدالتوں کے ریکارڈ کے مطابق نواز شریف اور عمران خان پر مقدمات آپ کو ضرور ملیں گے لیکن مولانا پر کرپشن کا ایک مقدمہ آپ کو عدالتی فائلوں میں سر کھپانے کے بعد بھی نہیں ملے گا ۔
Image result for fazlur rehman

لیکن !
سوال تو بنتا ھے ۔ ان لوگوں سے جو بٍلا تحقیق مولانا فضل الرحمان صاحب پر دن رات کیچڑ اچھالتے رھتے ھیں ۔ جن کے محفل کی رونق اس وقت تک قائم نہیں ھوتی جب تک مولانا فضل الرحمان صاحب پر دو چار طنزیہ جملے نہ کسے جائیں ۔ آپ مولانا کی سیاسی پالیسیز سے ضرور اختلاف کیجیئے لیکن یہ ایک حقیقت ھے کہ مولانا کا دامن صاف و پاک ھے ۔۔۔۔
اس تحریر کو جذباتی وابستگی اور شخصیت پرستی سے تعبیر نہ کریں بلکہ اپنے اندر جستجو و تلاش کی عادت ڈالیں ۔ سنی سنائی باتوں پر عمل نہ کیا کریں اور نقل بھی نہ کیا کریں ۔ Facts تلاش کریں ۔ اپنی سوچ بدلیں ۔
کیا یہ ممکن نہیں ھے کہ آپ کا سوچنے کا انداز غلط ھو ۔ آپ نے جو سنا اور کہا ہے وہ بٍلا دلیل ھو ۔ تو آئیے آج سے حقیقت جاننے کی کوشش کرتے ھیں ۔ اور کچھ سمجھنے کی صلاحیت اپنے اندر پیدا کرتے ھیں..

Saturday, May 26, 2018

جنرل اسد درانی کی کتاب "The Spy Chronicles"

Image may contain: 2 people, text

جنرل اسد درانی کی کتاب
۔۔۔۔
سابق آئی ایس آئی چیف جنرل درانی 1993ء میں پاک فوج سے ریٹائرڈ ہوئے۔
موصوف نے اعتراف کیا تھا کہ بے نظیری کو ہروانے کے لیے ائی ایس آئی نے سیاسی جماعتوں میں اتحاد کروایا تھا۔ اس اعتراف کے عوض ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد اسد درانی کو بے نظیر بھٹو نے جرمنی میں سفیر لگا دیا تھا۔

(بے نظیر کے خلاف بنائے گئے اس سیاسی اتحاد کا اعترف مرحوم جنرل حمید گل بھی کرتے رہے اور ان کا دعوی تھا کہ وہ اتحاد بلکل درست تھا اور آئی ایس آئی کے پاس موجود اطلاعات کے مطابق بے نظیر اس وقت اقتدار میں رہ کر قومی سلامتی خاص کر پاکستان کے نیوکلئیر پروگرام کے لیے خطرہ بن سکتی تھیں)
اسد درانی نے سابق انڈین اینٹلی جنس چیف اے ایس دلت کے ساتھ ملکر ایک کتاب لکھی ہے۔ جس کو انڈیا نے زور و شور سے پبلش کیا ہے۔ اس کتاب میں موصوف نے کچھ حیران کن دعوے کیے ہیں اور بہت سے معاملات میں انڈین موقف کی تائید کی ہے۔ مثلاً "کارگل پاکستان اور مشرف کی غلطی تھی اور پاکستان شکست کھا رہا تھا" ( جبکہ دوسری جانب کئی سابق انڈین آرمی افسران انڈین شکست کا اعتراف کرتے نظر آتے ہیں ) " افغانستان میں انڈین کونسل خانوں کی تعداد پاکستان بڑھا چڑھا کر بیان کر رہا ہے اور وہ کونسل خانے پاکستان کے خلاف جاسوسی یا دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہو رہے" (موصوف نے یہ نہیں بتایا کہ پھر وہ کونسل خانے کیا کام کرتے ہیں اور اپنی ریٹائرمنٹ کے دو عشروں بعد اس نے کب افغانستان جاکر وہ کونسل خانے گنے ہیں؟)


Image result for the spy chronicles


سب سے حیران کن انکشاف اسامہ کے بارے میں کیا ہے کہ اس کے لیے جنرل کیانی کو اعتماد میں لیا گیا تھا اور اسامہ کی اطلاع بھی شکیل آفریدی نے نہیں بلکہ ایک ریٹائرڈ آئی ایس آئی اہلکار نے امریکہ کو دی تھی اور اسامہ کو زندہ امریکہ کے حوالے کیا گیا تھا۔ موصوف نے آگے لکھا ہے کہ مجھے نہیں معلوم کہ اسامہ کے سر پر موجود پانچ ملین ڈالر انعام میں سے اس اہلکار کو کتنے ملے ہونگے۔ 

(خیال رہے کہ اسامہ کا واقعہ جنرل موصوف کی ریٹائرمنٹ کے بیس سال بعد پیش آیا۔ اس حوالے سے انتہائی باخبر رہنے والے بڑے بڑے صحافتی ادارے اور شخصیات کے علاوہ کئی ممالک کی اینٹلی جنس ایجنسیاں بھی بے خبر ہیں لیکن جنرل اسد درانی صاحب کو ایک ایک بات کا پتہ ہے) 
جو لوگ پاک فوج اور آئی ایس آئی کے بارے میں ذرا سا بھی جانتے ہیں انہیں پتہ ہے کہ فوج اور آئی ایس آئی کے مختلف بازو ایک دوسرے سے بھی حساس معلومات شیر نہیں کرتے جب تک ضروری نہ ہو۔ 

لیکن یہاں پچیس سال قبل رئٹائرڈ ہونے والے سابق افسر کے انکشافات سے یوں معلوم ہو رہا ہے جیسے آئی ایس آئی اپنی ہر ایکٹوٹی کم از کم جنرل اسد درانی صاحب کو ضرور بتاتی رہی تاکہ سند رہے اور بوقت ضرور کام آئے۔ یا دوسرا یہ ہو سکتا ہے کہ اسد درانی صاحب آئی ایس آئی کے متوازی اپنا کوئی ذاتی اینٹلی جنس نیٹ ورک چلا رہے ہوں جس کا کام آئی ایس ائی کی نگرانی کرنا ہو؟
جنرل اسد درانی اپنی کتاب کی پبلسٹی کے لیے کافی پرجوش ہیں اور وہ انڈیا جانے کے لیے بھی بے تاب نظر آرہے ہیں۔

Image result for the spy chronicles

میں نے اس کی کتاب نہیں پڑھی۔ اوپر بیان کیے گئے انکشافات وہ ہیں جو اب تک میڈیا کے ذریعے سامنے آئے ہیں۔ میری رائے میں ریٹائرڈ جنرل اسد درانی کی یہ کتاب تنہائی سے اکتائے ایک سٹھیائے ہوئے بڈھے کی منظر عام پر آنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں جس سے شائد وہ چند پیسے بھی کمانا چاہتا ہے۔ کتاب من گھڑت اور جھوٹے واقعات سے لبریز ہے۔

میرے خیال میں پاک فوج کو اسد درانی کا کورٹ مارشل کرنا چاہئے اور ان سے مطالبہ کرنا چاہئے کہ کتاب میں بیان کیے گئے دعوؤں کو ثابت کریں اور ان دعوؤں کا سورس بتائیں۔ گندے انڈے ہر جگہ ہوتے ہیں۔ کچھ انڈے وقت گزرنے کے ساتھ گندے ہوجاتے ہیں۔ جنرل اسد درانی اور جنرل شاہد عزیز بھی اسی ٹائپ کے گندے انڈے ہیں۔ میرے خیال میں اب ان گندے انڈوں کو توڑ کر پھینکنے کا وقت آگیا ہے۔ نواز شریف اس کتاب پر کمیشن بنوانا چاہتے ہیں۔ نواز شریف کو علم ہونا چاہئے کہ اسی جنرل نے دعوی کیا تھا کہ نواز شریف نے آئی ایس آئی سے رشوت لی تھی اس پر بھی کمیشن بننا چاہئے یا نہیں؟
۔۔۔۔
وقاص چودھری


مفت کتاب ڈونلوڈ کریں
Image result for download button