Saturday, June 16, 2018

دیوداسی - بھارت کی شرمناک رسم کی داستان

Image result for devadasi

بھارت کی شرمناک رسم کی داستان 
کچھ خوفناک اعداد و شمار !



کچھ روز پہلے ایک دوست کے گھر محفل سجی، جس میں پاکستانی سیاست و سماج کے ساتھ ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ کی عالمی پالیسیوں پر بھی بحث و مباحثہ ہوتا رہا۔ علمی و فکر سے مزین نشست کے دوران پربھوداسی نظریئے پر بھی بحث کی گئی، اس حوالے سے دوستوں نے بھارت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ گفتگو کے دوران کہا گیا کہ روشن اور سیکولر بھارت میں لاکھوں کی تعداد میں ایسی بچیاں بھی ہیں جنہیں پربھوداسیاں کہا جاتا ہے، جو خوفناک زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ محفل برخاست ہو گئی، میں گھر پہنچ چکی تھی، لیکن لفظ پربھوداسی اب بھی میرا تعاقب کرتا نظر آیا۔ یہ لفظ شاید میرے ذہن میں اس لئے اٹک گیا تھا کہ میں نے آج تک اس کے بارے میں کبھی نہیں سنا تھا۔
گھر پہنچتے ہیں میں نے سوچا کیوں نہ پربھو داسیوں کے بارے میں تحقیق کی جائے اور دیکھا جائے کہ اصل میں یہ روایت کیا ہے اور سیکولر بھارت کیوں اس حوالے سے دنیا بھر میں بدنام ہورہا ہے؟
ریسرچ شروع کی، کچھ مطالعہ کیا تو پریشانی کی کیفیت کا شکار ہو گئی کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں لڑکیوں کے ساتھ کس طرح کا ظلم و ستم ہو رہا ہے، وہ ملک جہاں بالی وڈ ہے، ہر سال سینکروں فلمیں بنتی ہیں، جمہوریت کا بول بالا ہے، شائیننگ اور انکریڈیبل انڈیا کے نعرے لگتے ہیں وہاں انسانیت کے ساتھ یہ کیا ہورہا ہے؟ پربھو داسی نامی روایت پڑھ کر ایک لمحے کے لئے میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔
میری آنکھوں میں آنسو تھے، سوچ کر کانپ رہی تھی کہ یا اللہ تیرا شکر ہے کہ میں پاکستان میں پیدا ہوئی ہوں۔ نام نہاد سیکولر بھارت خواتین کے لئے غیر محفوظ ملکوں میں سے ایک ہے۔
Image result for devadasi
بھارت میں خواتین اور لڑکیوں کے لئے نارمل انداز میں زندگی گزارنا خطرناک ہی نہیں بلکہ خوفناک ہے۔ بھارت میں فرسودہ غلیظ رویات کا خاتمہ اس جدید دور میں بھی نہیں کیا جاسکا۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے، جبکہ بھارت میں آج بھی پربھوداسی نامی روایت کا بول بالا ہے۔ یہ غلیظ اور گھٹیا روایت ساتویں صدی کے درمیان پروان چڑھی۔ کچھ جاہل انسانوں اپنے مفادات کی خاطر غریب اور معصوم بچیوں کا جنسی استحصال کرنا شروع کیا۔
صدیوں سے جاری اس فرسودہ روایت کا پس منظر اور تاریخ کچھ یوں ہے کہ غریب نابالغ بچیوں اور لڑکیوں کو سماج کا ایک بدمعاش اور طاقتور گروہ مندر لے جاتا ہے، جہاں رسم و رواج کا گھناونا کھیل کھیلا جاتا ہے اور ان معصوم بچیوں کی شادی بھگوان سے کرائی جاتی ہے۔ غریب والدین کو پیسے بھی دیے جاتے ہیں اور ساتھ کہا جاتا ہے کہ ان کی بچیاں مقدس کام کے لئے چنی گئی ہیں، والدین بھی خوشی خوشی ان بچیوں کو گھٹیا لوگوں کے سپرد کردیتے ہیں۔ ان کی شادی بھگوان سے کروادی جاتی ہے جسے پٹوکاٹو کہا جاتا ہے۔ بچیاں یہ سمجھتی ہیں کہ وہ کوئی پاکیزہ کام کرنے جارہی ہیں، اس لئے شروع شروع میں وہ خوش ہوتی ہیں۔ انہیں کیا معلوم کہ درندے انہیں کن گھناونے مقاصد کی تکیمل کے لئے یہاں لائے ہیں۔

بھگون کے ساتھ شادی کی رسم تو محض ایک دھوکا ہے! بھگوان سے شادی کا جھانسہ دے کر ان بچیوں کو سیکس ورکرز کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کے جسموں کی خرید و فروخت کی جاتی ہے، مندر کے نام پر ان بچیوں سے جنسی زیادتی ہوتی ہے۔ مندر کا حصہ بننے کے بعد ماں باپ کا گھر ان کے لئے حرام ہوجاتا ہے، جب یہ بچیاں ادھیڑ عمر کو پہنچ جاتی ہیں تو پھر انہیں مندر سے بے دخل کردیا جاتا ہے، اب گلیاں، سڑکیں ان کا مقدر ہوتی ہیں اور اسی بدترین صورتحال کا شکار ہو کر یہ خواتین مر جاتی ہیں۔ ۔ ۔
دیوداسی بچیوں کو شروع شروع میں یہ تلقین کی جاتی ہے کہ ان کے ساتھ جو مرد ہمبستری کرے، وہ ان مردوں کو ہر صورت خوش کریں۔ اس لئے یہ بچیاں رضامندی سے مردوں کے ساتھ ہمبستری کرتی ہیں۔ ساتھ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جو بچی غیر مرد کے ساتھ ہمبستری نہیں کرے گی، بھگوان اس سے ناراض ہو جائے گا اور وہ نرک میں جائے گی۔ تصوری کیجیئے کہ مذہب کو کس طرح کے غلیظ کاموں کے لئے بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔ پربھو داسی بن کر معصوم پریاں سیکس سلیو کے طور پر کام کرتی ہیں۔ اور یہ غلیظ کام وہ بغیر کسی معاوضے کے سرانجام دیتی ہیں۔ جب بچیاں ایڈز جیسی بیماریوں کا شکار ہوجاتی ہیں تو انہیں مندر سے نکال دیا جاتا ہے، اس کے بعد وہ گلیوں اور سڑکوں پر بھیک مانگ کر زندگی گزارنے پر مجبور ہوتی ہیں۔
اندھے، گونگے اور بہرے سماج کی نگاہ میں یہ پربھوداسیاں قابل احترام ہوتی ہیں، لیکن حقیقت میں ان کے ساتھ وہ کچھ ہورہا ہوتا ہے جو اوپر بیان کیا گیا ہے، اس مکروہ دھندے میں کوئی لڑکی جب حاملہ ہوجائے اور اسے بچہ پیدا ہو تو اس کے لئے یہ جرم ہے کہ وہ لوگوں کو یہ بتائے کہ بچے کا باپ کون ہے؟ جہالت کی انتہا دیکھیے کہ مندر میں منتیں مانی جاتیں ہیں کہ لڑکی پیدا ہو تاکہ اس کی شادی مندر کے بھگوان سے کی جائے۔ اس طرح اس مکروہ رواج کی آبیاری کی جاتی ہے۔
بھارت میں نسل در نسل پربھو_داسیوں کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ جب لڑکی عورت کا روپ اختیار کر لیتی ہے بھگوان کے بھگت اسے بوڑھی قرار دیتے ہیں۔ بیشتر دیوداسییا ں ایڈز جیسے موزی مرض کا شکار ہو کر مر جاتی ہیں۔ ایک عالمی رپورٹ کے مطابق اسی موزی رواج کا شکار اکثر لڑکیوں کو دور دراز کے علاقوں میں فروخت بھی کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی لڑکی گھر پہنج جائے اور والدین کو حقیقی صورتحال کے بارے میں آگاہ کرے تو والدین بھی بچیوں کی کہانی کو جھوٹ سمجھتے ہیں اور انہیں اپنانے سے کتراتے ہیں۔
انڈین نیشنل ہیومن رائٹس آف کمیشن کے مطابق 2013 میں دیو داسیوں کی تعداد 4 لاکھ 50 ہزار تھی جو 2017 میں پچاس فیصد بڑھی ہے۔ زیادہ تر پربھوداسیاں آندھراپردیش، کرناٹکا اور مہاراشٹر میں ہیں۔ بھارت میں 20 سال پہلے اس روایت کے خاتمے کے لیے قانون متعارف کروایا گیا تھا، بہت سی ملکی و غیر ملکی این جی اوز بھی اس انسانیت دشمن رواج کے خلاف کام کررہی ہیں، اس کے باوجود ابھی تک شائیننگ انڈیا میں یہ کاروبار زوروں پر ہے۔ ایک سروے کے مطابق دیوداسیوں کی عمر 11 سے 15 برس کے درمیان ہوتی ہے۔ بھارت کا شمار ان ملکوں میں ہوتا ہے جہاں خواتین، بچیوں اور لڑکیوں کے ساتھ سب سے زیادہ جنسی استحصال کیا جات ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق اس روایت کا سہارا لے کر لاکھوں بچیوں کو بروتھل ہاوسز میں فروخت کردیا جاتا ہے۔ سن دو ہزار سولہ میں بھارت بھر میں جنسی زیادتی کے تقریبا چالیس ہزار کیس رپورٹ ہوئے تھے۔ تاہم انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات کی درست تعداد کہیں زیادہ ہے کیونکہ بہت سے لوگ معاشرتی دباؤ کی وجہ سے ریپ کے کیس رپورٹ ہی نہیں کرتے۔ بھارت میں جنسی زیادتی کے واقعات کی روک تھام کی خاطر ملکی قوانین کو سخت بنایا گیا ہے تاہم پھر بھی اس قدامت پسند معاشرے میں ریپ کے واقعات میں کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے جرائم کے سدباب کی خاطر معاشرتی سطح پر شعور و آگاہی میں اضافہ کرنا بھی ضروری ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں ہر تیسری عورت جنسی زیادتی اور جسمانی تشدد کی شکار ہے۔ 27 فیصد 15 سال تک کی عمر کی لڑکیوں پر جسمانی تشدد کا انکشاف ہوا ہے۔ بھارت کے قومی فیملی ہیلتھ سروے کے مطابق 2017 میں دیہی اورشہری علاقوں کی 29 سے 23 فیصد خواتین گھریلو تشدد کا شکار ہوئیں۔ سروے کے مطابق شادی شدہ 31 فیصد خواتین کو ان کے شوہر نے تشدد کا نشانہ بنایا جبکہ 56 سے 15فیصد غیر شادی شدہ خواتین پر ان کے بھائی، سوتیلے باپ، سوتیلی ماں اور اساتذہ نے تشدد کا نشانہ بنایا۔ اعداد و شمار کے مطابق پوری دنیا میں جنسی زیادتی یعنی ریپ کے سب سے زیادہ کیسز صرف امریکہ میں درج ہوتے ہیں یعنی نمبر ون امریکہ جنسی زیادتی کے حوالے سے بھی نمبر ون ہے جبکہ دوسرے نمبر پر انڈیا ہے۔
بھارت جیسے معاشرے میں مظلوم عورت ویسے بھی شودروں سے بھی نچلے درجے کی مخلوق سمجھا جاتا ہے۔ شاید یہ واحد معاشرہ ہے جہاں کسی عورت کے شوھر کے مرنے کے بعد عورت کو بھی ستی کر دیا جاتا ہے یعنی مرد کی لاش کے ساتھ ہی عورت کو بھی زندہ جلا دیا جاتا ہے۔ اور اس لحاظ سے بھی منفرد معاشرہ ہے کہ جہاں عورت کو کتوں بندروں اور دوسرے جانوروں کے ساتھ بیاہ دینے کا رواج ہے یعنی عورت کی عزت اس جانور جتنی بھی نہیں ہوتی جس کے ساتھ اس بیچاری کی شادی کی جاتی ہے ایسے معاشرے میں ریپ کو کوئی جرم نہ سمجھا جائے تو یہ حیرانگی کی بات نہیں۔
اگر دنیا کے انسانوں میں تھوڑی سی بھی اخلاقی قوت ہو تو وہ خواتین، بچیوں اور لڑکیوں کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتیوں کے خلاف آواز اٹھائیں۔
 فروا وحید

Monday, June 11, 2018

دوغلا پن

Image result for dual face


دوغلا پن
٭٭٭



چند روز ہوئے… کسی کام سے ایک سرکاری دفتر جانا ہوا۔ کھڑکیوں پر سائلین کی طویل قطاریں لگی ہوئی تھیں۔ ہم بھی اپنی متعلقہ کھڑکی پر لگی قطار میں جا کھڑے ہوئے… سرکاری اہلکار کی روایتی سستی کے باعث قطار چیونٹی کی رفتار سے سرک رہی تھی۔ لوگوں کے چہروں سے بے زاری اور اکتاہٹ گویا ٹپک رہی تھی۔ وہ وقفے وقفے سے کھڑکی کی جانب دیکھتے اور کسمسا کر رہ جاتے، جہاں کلرک بادشاہ اپنے کسی دوست سے گپیں ہانکتے، دورانِ گفتگو بلند آہنگ قہقہے بکھیرتے تھے… اور گاہے اپنے کام پر کچھ توجہ دے لیتے تھے۔
اسی اثنا میں ایک سرتاپا فیشن میں غرق خاتون کی تشریف آوری ہوئی، جن کے ظاہر سے اُن کی ’’روشن خیالی‘‘ پوری طرح عیاں تھی۔ موصوفہ قطار کو یکسر نظر انداز کرتی براہ ِراست کھڑکی پر حملہ آور ہو گئیں۔ کلرک بادشاہ کی میلی بے نورسی آنکھوں میں جیسے ہزار وولٹ کے بلب روشن ہو گئے ہوں، فوراً ریشہ خطمی ہو گئے۔
قطار میں موجود ایک ناتواں ضعیف بزرگ… کہ جن کا قطار میں کھڑا ہونا بھی دشوار نظرآتا تھا، بول پڑے:’’لیجیے… ابھی دو بغیر قطار اپنے کام کروا کر جا چکیں، اب ایک اور آ گئیں… ہم تو جیسے بے وقوف ہیں کہ گھنٹہ بھر سے قطار میں کھڑے خوار ہو رہے ہیں…!‘‘
خاتون نے ایک نگاہِ خشمگیں بزرگوار پر ڈالی… منھ بگاڑ کر کچھ بڑبڑائیں…کلرک بادشاہ نے کہ جن کی تمام تر فرض شناسی کا محور اب وہ خاتون تھیں، باآواز بلند اُن کی ترجمانی ضروری سمجھی اور ڈپٹ کر کہا:
’’دوسروں کا نہیں تو اپنی عمر کا ہی خیال کر لو بڑے میاں… تمہارے گھر میں بھی بہو بیٹیاں ہوں گی… یہ بھی کسی کی بہن بیٹی ہیں… کیا ہو جائے گا اگر دو منٹ انتظار کر لو گے۔‘‘
’’بحمداللہ… ہمارے گھر میں بیٹیاں بھی ہیں، بہوئیں بھی اور بیوی بھی… مگر ہم ابھی اتنے ماڈرن اور روشن خیال نہیں ہوئے ہیں کہ اپنی گھر کی عزتوں کو یوں سڑکوں پر دھکے کھانے کے لیے چھوڑ دیں اور خود گھروں میں آرام فرماتے رہیں… صرف اِس لیے کہ دوسرے بے وقوفوں کی طرح قطار میں کھڑا نہ ہونا پڑ جائے… اور ہاں میاں یہ دو منٹ انتظار کرنے کی بھی خوب کہی… دس پندرہ منٹ سے تو قطار ٹس سے مس نہیں ہوئی کہ آپ کو ماشاءاللہ دوستیاں نبھانے سے ہی فرصت نہیں ہے… ایک جاتا نہیں کہ دوسرا آ جاتا ہے… لگتا ہے کہ دفتر نہیں، کمپنی باغ ہے… کوئی پندرہ منٹ پہلے دو خواتین کو دیکھ کر آپ کی رگِ فرض شناسی پھڑکی تھی، یا اب اِن محترمہ کے آنے سے آپ کو فرائض اور اخلاقیات کا دورہ پڑا ہے… ہم جو قطار میں لگے سڑ رہے ہیں، آپ کی نظر میں تو شاید انسان ہی نہیں ہیں۔‘‘
بڑے صاحب نے ایک منٹ میں کلرک بادشاہ کا نشۂ کلرکی ہرن کر کے رکھ دیا تھا… اُس کا منھ کھلا کا کھلا رہ گیا تھا… خاتون بھی دم بخود کھڑی تھیں…بزرگ خاموش ہوئے تو کلرک کی بدتمیزی پر قطار میں کھڑے کچھ اور لوگوں نے بھی اسے آڑے ہاتھوں لے لیا…اور وہ جو ٹھنڈے کمرے میں ابھی، اپنے زعم میں بادشاہ بنا بیٹھا تھا…فوراً بھیگی بلی بن گیا۔
اور ہم سوچ رہے تھے کہ مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کے ہر وقت نعرے بلند کرنے اور ہر مردانہ رتبے کی حرص کرنے والی اِن آزاد خیال خواتین کو… عین مشقت کے وقت میں ہی اچانک اپنی نسوانیت کیوں یاد آ جاتی ہے… ذرا پسینہ بہا نہیں اور مساوات مرد و زن کا نعرۂ مستانہ ٹھس ہوا نہیں… آخر کیوں؟
یہ توکوئی انصاف کی بات نہ ہوئی نا… محض ہوشیاری اور موقع پرستی ہوئی کہ ایک طرف محکوم بھی نہیں بننا… بلکہ جو ’’قوّام‘‘ ہے، الٹا اسی پر حکومت کرنے کی چاہ ہے، اس کے سارے حقوق سارے مراتب خود اپنے لیے بھی طلب کرنے ہیں… مگرجہاں کمزوروں کے لیے مخصوص، "رعایتیں اور سہولتیں" لینے کا موقع آئے تو فوراً اپنی فطری کمزوری اور نسوانیت کی آڑ لے لی جائے اور پھر اس کا واویلا کر کے ساری رعایتیں حاصل کر لی جائیں…!
سچی بات ہے کہ یہ تو مغربی عورتوں کی تقلید بھی پوری طرح نہ ہوئی۔ وہ اگر مردوں کے شانہ بشانہ چلتی اور کام کرتی ہیں… مردوں کے لیے مخصوص تمغے، مردانہ وار سینے پر سجاتی ہیں… تو قدرت کی طرف سے دی گئی تمام نسوانی رعایتوں کا خیال بھی پھر گھر پر رکھ کر آتی ہیں… مشقت کے ہر وقت میں وہ مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہیں اور اس پر واویلا بھی نہیں کرتیں کہ یہ راستہ انہوں نے خود اپنی مرضی سے چنا ہے… مگر ہمارے ہاں…
ہمارے ہاں تو اس معاملے میں بھی شدید دوغلا پن ہے… مگر یہ دوغلا پن… پھر کہیں کسی دن… کسی قطار میں خجل خوار ہوتے… اپنے ہی پسینے میں نہائے ایک ناتواں وجود کی زبانی… یوں بیچ چوراہے میں اس طرح واضح کر دیا جاتا ہے کہ سننے والوں کے منھ کھلے کے کھلے رہ جاتے ہیں…!
٭
محمد فیصل شہزاد

دنیا کی کم عمر ترین پاکستانی عالمی ریکارڈ ہولڈر

Image result for liba hanoi

دنیا کی سب سے کم عمر پاکستانی عالمی ریکارڈ ہولڈر

چھ سالہ لیبا وہاج اب سب سے چھوٹی پاکستانی گنیس ورلڈ ریکارڈ منعقد کرنے کے لئے ہے. لیبا نے ہنوئی کے سطح 6 ٹاور کو حل کرنے کے لئے تیز ترین وقت کے لئے عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔ 

ہنوئی ٹاور ایک ریاضیاتی کھیل ہے جس میں تین سلاخوں اور مختلف سائز کے کئی ڈسک شامل ہیں جو کسی بھی چھڑی میں سلائڈ کرسکتے ہیں. لیبا، معروف تعليمی ماہر وہاج حسین کی بیٹی نے اس کھیل کے آخری ریکارڈ کو توڑ دیا جو 2 منٹ اور 30 سیکنڈ تھا اور اسے صرف ایک منٹ اور 13 سیکنڈ میں حل کرنے میں مدد ملی تھی۔


ہم  لیبا وہاج کو سب سے کم عمر پاکستانی عالمی ریکارڈ ہولڈربننے کے لۓ گنیس عالمی ریکارڈ کو برقرار رکھنے اور ملک اور اس کے خاندان کو فخر دینے کے لۓ  مبارکباد دیتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ اس کی کامیابی سے زیادہ بچوں کو حوصلہ افزائی ملے گی اور اپنی صلاحیتوں کو دنیا میں ثابت کرے گی۔

Tuesday, June 5, 2018

ٹیکسٹ بک کیس آف این جی او فراڈ



ٹیکسٹ بک کیس آف این جی او فراڈ




تھری کپس آف ٹی، نامی نان فکشن کتاب پورے چار سال تک نیویارک ٹائمز کی بیسٹ سیلر رہی. یہ کتاب اب تک سینتالیس زبانوں میں شائع ہو چکی ہے- اسکا مصنف گریگ مورٹنسن ایک سابق امریکی فوجی اور کوہ پیما ہے- وہ پاکستان، افغانستان اور تاجکستان میں اسکولوں کے قیام کے لئے کام کرنے والی این جی او سنٹرل ایشین انسٹیٹیوٹ کے بانی اور سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر بھی ہے- تیسری دنیا کے ان جنگ اور غربت زدہ خطوں میں لڑکیوں کی تعلیم کے ترقی کے لئے کام کرنے پر مورٹنسن کو مسلسل تین سال تک نوبل پرائز کے لئے بھی نامزد کیا جاتا رہا- یاد رہے اس انسٹیٹیوٹ کو امداد دینے والوں میں امریکی صدر اوباما اور سلیکون ویلی کے بزنس اونرز سے لیکر امریکی عوام یہاں تک کہ بڑی تعداد میں پاکستانی بچوں سے انسانی ہمدردی سے رکھنے والے امریکی اسکولوں بچے تک تھے جنہوں نے اسکے قیام سے لیکر ٢٠١١ تک اسے سو ملین ڈالر سے زیادہ مالی عطیات دیئے- قارئین کی آسانی کے لئے ہم بتائیں کہ یہ رقم ایک ہزار کروڑ پاکستانی روپے بنتی ہے-

لیکن ٢٠١٠ کے اواخر میں امریکی چینل سی بی ایس کے ایک پروگرام، جوامریکی صحافی جان کراکر کی صحافیانہ تحقیقات پر مشتمل تھا، سے کچھ ایسے انکشافات سامنے آئے جن کے بعد امریکی ریاست مونٹانا کے اٹارنی جرنل کو گریگ کے خلاف از خود نوٹس لینا پڑا- یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ صحافی خود گریگ کی این جی او سی آئی ائے کو ماضی میں ٧٥٠٠٠ ڈالر کے مالی عطیات دی چکا تھا- اسکے علاوہ سابق امریکی صدر اوباما بھی سی آئی ائے کو اپنے نوبل پرائز کی رقم سے ایک لاکھ ڈالر عطیہ کر چکے تھے- گریگ پر جو الزامات تھے انکے مطابق پاکستن اور افغانستان میں موجود بہت سے اسکول جنکا انھوں نے اپنی ویب سائٹ پر کیا تھا اور جن کے لئے وہ امریکی عوام اور بچوں سے سالانہ بیس سے پچیس ملین ڈالر اکٹھا کر رہ اٹھے وہ سرے سے موجود ہی نہیں تھے- جو اسکول موجود تھے انکے بارے میں گاؤں والوں نے بتایا کہ انکی تعمیر کے لئے زمین، تعمیراتی سامان لکڑی وغیرہ، اور مفت مزدوری گاؤں والوں نے اپنی مدد آپ کے تحت فراہم کی- گریگ کی این جی او صرف اسٹیشنری کتابوں اور ٹیچرز کی تنخواہیں دیتی ہے-

ہم نے گریگ مورٹنسن سے انکا مؤقف جاننے کے لئے انکے فیس بک پیج اور کچھ مشترکہ دوستوں کے ذریعے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن انھوں نے تا حال کوئی جواب نہیں دیا - اگر کسی کا ان سے رابطہ ہے اور وہ اپنا موقف پیش کرنا چاہیں تو موسٹ ویلکم-
تزئین حسن 

Monday, June 4, 2018

انسان زمین کا ایلین ہے ۔



انسان زمین کا ایلین ہے ۔



نے اپنی کتاب میں تہلکہ خیز دعوی کیا ہے کہ انسان اس سیارے زمین کا اصل رہائشی نہیں ہے بلکہ اسے کسی دوسرے سیارے پر تخلیق کیا گیا اور کسی وجہ سے اس کے اصل سیارے سے اس کے موجودہ رہائشی سیارے زمین پر پھینک دیا گیا۔
ڈاکٹر ایلیس جو کہ ایک سائنسدان محقق مصنف اور امریکہ کا نامور آرکیالوجسٹ ھے اس کی کتاب میں اس کے الفاظ پر غور کیجئیے۔ زھن میں رھے کہ یہ الفاظ ایک سائنسدان کے ہیں جو کسی مذھب پر یقین نہیں رکھتا۔
اس کا کہنا ھے کہ انسان جس ماحول میں پہلی بار تخلیق کیا گیا اور جہاں یہ رھتا رھا ھے وہ سیارہ ، وہ جگہ اس قدر آرام دہ پرسکون اور مناسب ماحول والی تھی جسے وی وی آئی پی کہا جا سکتا ھے وہاں پر انسان بہت ھی نرم و نازک ماحول میں رھتا تھا اس کی نازک مزاجی اور آرام پرست طبیعت سے معلوم ھوتا ھے کہ اسے اپنی روٹی روزی کے لئے کچھ بھی تردد نہین کرنا پڑتا تھا ، یہ کوئی بہت ہی لاڈلی مخلوق تھی جسے اتنی لگژری لائف میسر تھی ۔ ۔ وہ ماحول ایسا تھا جہاں سردی اور گرمی کی بجائے بہار جیسا موسم رھتا تھا اور وہاں پر سورج جیسے خطرناک ستارے کی تیز دھوپ اور الٹراوائلیٹ شعاعیں بالکل نہیں تھیں جو اس کی برداشت سے باھر اور تکلیف دہ ھوتی ہیں۔
تب اس مخلوق انسان سے کوئی غلطی ہوئی ۔۔
اس کو کسی غلطی کی وجہ سے اس آرام دہ اور عیاشی کے ماحول سے نکال کر پھینک دیا گیا تھا ۔جس نے انسان کو اس سیارے سے نکالا لگتا ہے وہ کوئی انتہائی طاقتور ہستی تھی جس کے کنٹرول میں سیاروں ستاروں کا نظام بھی تھا ۔۔۔ وہ جسے چاہتا ، جس سیارے پر چاہتا ، سزا یا جزا کے طور پر کسی کو بھجوا سکتا تھا۔ وہ مخلوقات کو پیدا کرنے پر بھی قادر تھا۔
ڈاکٹر سلور کا کہنا ہے کہ ممکن ہے زمین کسی ایسی جگہ کی مانند تھی جسے جیل قرار دیا جاسکتا ھے ۔ یہاں پر صرف مجرموں کو سزا کے طور پر بھیجا جاتا ہو۔ کیونکہ زمین کی شکل۔۔ کالا پانی جیل کی طرح ہے ۔۔۔ خشکی کے ایک ایسے ٹکڑے کی شکل جس کے چاروں طرف سمندر ہی سمندر ھے ، وہاں انسان کو بھیج دیا گیا۔
Image may contain: mountain, nature and outdoor
ڈاکٹر سلور ایک سائنٹسٹ ہے جو صرف مشاہدات کے نتائج حاصل کرنے بعد رائے قائم کرتا ہے ۔ اس کی کتاب میں سائنسی دلائل کا ایک انبار ہے جن سے انکار ممکن نہیں۔
اس کے دلائل کی بڑی بنیاد جن پوائنٹس پر ھے ان میں سے چند ایک ثابت شدہ یہ ہیں۔
نمبر ایک ۔ زمین کی کش ثقل اور جہاں سے انسان آیا ہے اس جگہ کی کشش ثقل میں بہت زیادہ فرق ہے ۔ جس سیارے سے انسان آیا ہے وہاں کی کشش ثقل زمین سے بہت کم تھی ، جس کی وجہ سے انسان کے لئے چلنا پھرنا بوجھ اٹھا وغیرہ بہت آسان تھا۔ انسانوں کے اندر کمر درد کی شکایت زیادہ گریوٹی کی وجہ سے ہے ۔
نمبر دو ؛انسان میں جتنے دائمی امراض پائے جاتے ہیں وہ باقی کسی ایک بھی مخلوق میں نہیں جو زمین پر بس رہی ہے ۔ ڈاکٹر ایلیس لکھتا ہے کہ آپ اس روئے زمین پر ایک بھی ایسا انسان دکھا دیجئیے جسے کوئی ایک بھی بیماری نہ ہو تو میں اپنے دعوے سے دستبردار ہوسکتا ہوں جبکہ میں آپ کو ھر جانور کے بارے میں بتا سکتا ہوں کہ وہ وقتی اور عارضی بیماریوں کو چھوڑ کر کسی ایک بھی مرض میں ایک بھی جانور گرفتار نہیں ہے ۔
نمبر تین ؛ ایک بھی انسان زیادہ دیر تک دھوپ میں بیٹھنا برداشت نہیں کر سکتا بلکہ کچھ ہی دیر بعد اس کو چکر آنے لگتے ہیں اور سن سٹروک کا شکار ہوسکتا ہے جبکہ جانوروں میں ایسا کوئی ایشو نہیں ھے مہینوں دھوپ میں رھنے کے باوجود جانور نہ تو کسی جلدی بیماری کا شکار ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی اور طرح کے مر ض میں مبتلا ہوتے ہیں جس کا تعلق سورج کی تیز شعاعوں یا دھوپ سے ہو۔
نمبر چار ؛ ہر انسان یہی محسوس کرتا ہے اور ہر وقت اسے احساس رہتا ہے کہ اس کا گھر اس سیارے پر نہیں۔ کبھی کبھی اس پر بلاوجہ ایسی اداسی طاری ہوجاتی ہے جیسی کسی پردیس میں رہنے والے پر ہوتی ہے چاہے وہ بیشک اپنے گھر میں اپنے قریبی خونی رشتے داروں کے پاس ہی کیوں نا بیٹھا ہوں۔
نمبر پانچ زمین پر رہنے والی تمام مخلوقات کا ٹمپریچر آٹومیٹک طریقے سے ہر سیکنڈ بعد ریگولیٹ ہوتا رہتا ہے یعنی اگر سخت اور تیز دھوپ ھے تو ان کے جسم کا درجہ حرارت خود کار طریقے سے ریگولیٹ ہو جائے گا، جبکہ اسی وقت اگر بادل آ جاتے ہیں تو ان کے جسم کا ٹمپریچر سائے کے مطابق ہو جائے گا جبکہ انسان کا ایسا کوئی سسٹم نہیں بلکہ انسان بدلتے موسم اور ماحول کے ساتھ بیمار ھونے لگ جائے گا۔ موسمی بخار کا لفظ صرف انسانوں میں ھے۔
نمبر چھ ؛انسان اس سیارے پر پائے جانے والے دوسرے جانداروں سے بہت مختلف ہے ۔ اسکا ڈی این اے اور جینز کی تعداد اس سیارہ زمین پہ جانے والے دوسرے جانداروں سے بہت مختلف اور بہت زیادہ ہے۔
انسان کو جس اصل سیارے پر تخلیق کیا گیا تھا وہاں زمین جیسا گندا ماحول نہیں تھا، اس کی نرم و نازک جلد جو زمین کے سورج کی دھوپ میں جھلس کر سیاہ ہوجاتی ہے اس کے پیدائشی سیارے کے مطابق بالکل مناسب بنائی گئی تھی ۔ یہ اتنا نازک مزاج تھا کہ زمین پر آنے کے بعد بھی اپنی نازک مزاجی کے مطابق ماحول پیدا کرنے کی کوششوں میں رھتا ھے۔جس طرح اسے اپنے سیارے پر آرام دہ اور پرتعیش بستر پر سونے کی عادت تھی وہ زمین پر آنے کے بعد بھی اسی کے لئے اب بھی کوشش کرتا ھے کہ زیادہ سے زیادہ آرام دہ زندگی گزار سکوں۔ جیسے خوبصورت قیمتی اور مضبوط محلات مکانات اسے وہاں اس کے ماں باپ کو میسر تھے وہ اب بھی انہی جیسے بنانے کی کوشش کرتا ہے ۔ جبکہ باقی سب جانور اور مخلوقات اس سے بے نیاز ہیں۔ یہاں زمین کی مخلوقات عقل سے عاری اور تھرڈ کلاس زندگی کی عادی ہیں جن کو نہ اچھا سوچنے کی توفیق ہے نہ اچھا رہنے کی اور نہ ہی امن سکون سے رھنے کی۔ انسان ان مخلوقات کو دیکھ دیکھ کر خونخوار ہوگیا۔ جبکہ اس کی اصلیت محبت فنون لطیفہ اور امن و سکون کی زندگی تھی ۔۔یہ ایک ایسا قیدی ہے جسے سزا کے طور پر تھرڈ کلاس سیارے پر بھیج دیا گیا تاکہ اپنی سزا کا دورانیہ گزار کر واپس آ جائے ۔ڈاکٹر ایلیس کا کہنا ہے کہ انسان کی عقل و شعور اور ترقی سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ایلین کے والدین کو اپنے سیارے سے زمین پر آئے ہوئے کچھ زیادہ وقت نہیں گزرا ، ابھی کچھ ہزار سال ہی گزرے ہیں یہ ابھی اپنی زندگی کو اپنے پرانے سیارے کی طرح لگژری بنانے کے لئے بھرپور کوشش کر رہاہے ، کبھی گاڑیاں ایجاد کرتا ہے ، کبھی موبائل فون اگر اسے آئے ہوئے چند لاکھ بھی گزرے ہوتے تو یہ جو آج ایجادات نظر آ رہی ہیں یہ ہزاروں سال پہلے وجود میں آ چکی ہوتیں ، کیونکہ میں اور تم اتنے گئے گزرے نہیں کہ لاکھوں سال تک جانوروں کی طرح بیچارگی اور ترس کی زندگی گزارتے رہتے۔
ڈاکٹر ایلیس سِلور کی کتاب میں اس حوالے سے بہت کچھ ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس کے دلائل کو ابھی تک کوئی جھوٹا نہیں ثابت کر سکا۔۔
میں اس کے سائنسی دلائل اور مفرو ضوں پر غور کر رہا تھا۔۔ یہ کہانی ایک سائنسدان بیان کر رہا ھے یہ کوئی کہانی نہیں بلکہ حقیقی داستان ہے جسے انسانوں کی ہر الہامی کتاب میں بالکل اسی طرح بیان کیا گیا ہے۔ میں اس پر اس لئے تفصیل نہیں لکھوں گا کیونکہ آپ سبھی اپنے باپ آدم ؑ اور حوا ؑ کے قصے کو اچھی طرح جانتے ہیں۔۔ سائنس اللہ کی طرف چل پڑی ہے ۔۔ سائنسدان وہ سب کہنے پر مجبور ھوگئے ہیں جو انبیاء کرام اپنی نسلوں کو بتاتے رہے تھے ۔ میں نے نسل انسانی پر لکھنا شروع کیا تھا۔ اب اس تحریر کے بعد میں اس سلسلے کو بہتر انداز میں آگے بڑھا سکوں گا۔۔
ارتقاء کے نظریات کا جنازہ اٹھ چکا ہے ۔۔ اب انسانوں کی سوچ کی سمت درست ہو رہی ھے ۔۔ یہ سیارہ ہمارا نہین ہے ۔یہ میں نہیں کہتا بلکہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیشمار بار بتا دیا تھا۔ اللہ پاک نے اپنی عظیم کتاب قران حکیم میں بھی بار بار لاتعداد مرتبہ یہی بتا دیا کہ اے انسانوں یہ دنیا کی زندگی تمہاری آزمائش کی جگہ ہے ۔ جہاں سے تم کو تمہارے اعمال کے مطابق سزا و جزا ملے گی ۔
#منقول

Sunday, June 3, 2018

غوری خاندان کی سلطنت

Image result for ‫غوری سلطنت یا سلسلہ غوریاں کا خمیر وسطی افغانستان‬‎
غوری خاندان کی سلطنت

غوری سلطنت یا سلسلہ غوریاں کا خمیر وسطی افغانستان کے علاقے ’’غور‘‘ سے اٹھا۔  کہا جاتا ہے کہ وہ تاجک تھے لیکن اس بارے میں ابہام موجود ہے۔ غور کے لوگ بارہویں صدی عیسوی میں مسلمان ہوئے۔ ابو علی بن محمد جو 1011ء سے 1035ء تک اقتدار میں رہا سلطنت غوریہ کا پہلا حاکم مسلمان تھا جس نے غور میں مساجد اور مدارس تعمیر کیے۔
غوری خاندان شروع میں خاندان غزنی کی حکومت کا باج گزار تھا اور کابل اور ہرات کے درمیان غور کے پہاڑی علاقے پر اس کی حکومت تھی۔  اس علاقے کا مرکز فیروز کوہ تھا۔ غوریوں نے غزنویوں سے اپنی آزادی کا اعلان کرنا شروع کیا۔ 1149ء میں غزنوی حاکم بہرام شاہ نے غوریوں کے ایک مقامی قائد قطب الدین محمد کو زہر دے دیا۔ وہ اپنے بھائی سیف الدین سوری سے جھگڑے کے بعد غزنی میں پناہ لیے ہوئے تھا۔ بدلہ لینے کے لیے سیف الدین نے غزنی پر حملہ کر کے سیف الدین کو شکست دے دی۔

یہیں سے غوریوں اور غزنویوں کی جس لڑائی کا آغاز ہوا اس کا انجام لاہور میں ہوا۔ غوریوں نے 1186ء میں غزنوی سلطنت کا اس وقت خاتمہ کیا جب انہوں نے ان کے آخری دارالحکومت لاہور پر قبضہ کیا۔ اپنے عروج کے دور میں غوری سلطنت خراسان سے بنگال تک پھیل گئی تھی۔ جب غوریوں کی سلطنت کا خاتمہ ہوا تو خراسان و ایران میں خوارمی سلطنت قائم ہوئی جبکہ شمالی ہندوستان میں مملوک برسراقتدار آئے۔ 
Image result for ‫غوری سلطنت یا سلسلہ غوریاں کا خمیر وسطی افغانستان‬‎

سیف الدین سوری نے بہرام شاہ غزنوی کے زمانے میں غزنی پر حملہ کرنے اور شہر پر قبضہ کرنے کے بعد سلطان کا لقب اختیار کیا لیکن بہرام شاہ نے جلد ہی غزنی کو اس سے چھین لیا اور سیف الدین کو قتل کرا دیا۔ 
جب سیف الدین کے بھائی علائو الدین حسین کو اطلاع ملی تو اس نے بھائی کا انتقام لینے کے لیے غزنی پر حملہ کر دیا اور شہر کو آگ لگا دی اور سات دن تک قتل عام کیا۔ اس ظالمانہ اقدام پر وہ تاریخ میں علائو الدین جہان سوز کے نام سے جانا جاتا ہے۔ غور کے اس خاندان کو حقیقی اہمیت دو بھائیوں غیاث الدین اور شہاب الدین محمد غوری کے زمانے میں حاصل ہوئی جو سیف الدین ثانی کے چچا زاد بھائی تھے اور سیف الدین کے انتقال کے بعد یکے بعد دیگرے تخت نشین ہوئے۔

غیاث الدین غوری نے غزنی کو مستقل طور پر فتح کر لیا اور شہاب الدین محمد غوری کو سلطان معز الدین کا خطاب دے کر غزنی میں تخت پر بٹھایا۔ غیاث الدین نے اس دوران ہرات اور بلخ بھی فتح کر لیے اور ہرات کو اپنا دار الحکومت بنایا۔ سلطان شہاب الدین غوری اگرچہ اپنے بھائی کا نائب تھا لیکن اس نے غزنی میں ایک آزاد حکمران کی حیثیت سے حکومت کی اور شمالی ہندوستان کو فتح کرکے تاریخ میں مستقل مقام پیدا کر لیا۔ 
No automatic alt text available.
شہاب الدین غوری نے اپنی فتوحات کا آغاز ملتان اور اوچ سے کیا اور 1175ء میں دونوں شہر فتح کر لیے۔ اس کے بعد 1179ء میں پشاور اور 1182ء میں دیبل کو فتح کرکے غوری سلطنت کی حدود کو بحیرۂ عرب کے ساحل تک بڑھا دیا۔ شہاب الدین نے 1186ء میں لاہور پر قبضہ کرکے غزنوی خاندان کی حکومت ہمیشہ کے لیے ختم کردی۔  فتح لاہور کے بعد شہاب الدین نے بھٹنڈا فتح کیا جس پر دہلی اور اجمیر کا ہندو راجہ پرتھوی راج چوہان ایک زبردست فوج لے کر اس کے مقابلے پر آیا اور تلاوڑی کے میدان میں شہاب الدین کو شکست دی لیکن شہاب نے اگلے ہی سال پچھلی شکست کا بدلہ چکاتے ہوئے نہ صرف پرتھوی راج کو شکست دی بلکہ وہ جنگ میں مارا بھی گیا۔

شہاب نے آگے بڑھ کر دہلی اور اجمیر کو فتح کر لیا اور اس کے سپہ سالار بختیار خلجی نے بہار اور بنگال کو زیرنگیں کیا۔ یوں پورا شمالی ہندوستان ان کے قبضے میں آگیا۔ غیاث الدین نے 46 سال حکومت کی۔ اس کے انتقال کے بعد شہاب الدین محمد غوری ہرات میں بھائی کی جگہ پوری غوری سلطنت کا بادشاہ بن گیا۔غوریوں اور خوارزم شاہی سلطنت کے درمیان جنگوں کا سلسلہ پرانا تھا اور انہی لڑائیوں کے سلسلے میں شہاب الدین خوارزم تک پہنچ گیا لیکن وہاں اس کو شکست ہوئی۔
Image may contain: 1 person, beard
اس خبر کے پھیلنے پر پنجاب کے کھوکھروں نے بغاوت کردی۔ محمد غوری فوراً پنجاب آیا اور بغاوت فرو کی لیکن بغاوت فرو کرنے کے بعد جب وہ واپس جا رہا تھا تو دریائے جہلم کے کنارے ایک اسماعیلی فدائی نے حملہ کرکے اسے قتل کر دیا۔  اس کے ساتھ غوری خاندان کی حکومت بھی ختم ہو گئی۔

ہرات اور غزنی کے علاقوںپر خوارزم شاہ کی حکومت قائم ہو گئی اور برصغیر پاک وہند میں محمد غوری کے وفادار غلام اور دہلی میں سلطان کے نائب قطب الدین ایبک نے ایک مستقل حکومت قائم کر لی۔
معروف آزاد

Saturday, June 2, 2018

گردن کے مہروں کی خرابی------ Cervical Spondylosis

Related image

گردن کے مہروں کی خرابی 

Cervical Spondylosis


ہمارے جسم کے تمام اعصاب اسپائنل کارڈ یا حرام مغز سے جڑے ہیں۔ یہ حرام مغز ہماری ریڑھ کی ہڈی کے مہروں کے درمیاں ایک ڈوری کی صورت گزرتا ہے اور اوپر جا کر دماغ سے مل جاتا ہے۔ جسم کی ہر سرگرمی اور حرکات و محسوسات اسی کے ذریعے دماغ تک پہنچتی ہیں اور اسی سے نکلنے والے بے شمار اعصاب تاروں کے گچھے کی صورت مہروں کے اطراف سے نکل کر جسم کے ہر رگ و ریشے میں پھیلے ہوتے ہیں۔اب اگر ان اعصاب یا حرام مغز پر کوئ دبائو یا چوٹ لگ جائے تو نتائج انتہائ دردناک اور خطرناک ہو جاتے ہیں۔ عمر کے ساتھ ساتھ مہروں کے درمیان گیپ بڑھنے لگتا ہے یا مہرے کا درمیانی فاصلہ کم ہو جاتا ہے۔ ہڈی کی کمزوری کی وجہ سے مہروں کی ساخت بگڑنے لگتی ہے۔ مہروں میں نوکیں یا چونچیں سی نکل آتی ہیں۔ یہ نوکیں اعصاب کو دباتی ہیں تو متعلقہ عضو میں درد اکڑن یا سوجن و سوزش پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح ان مہروں کے درمیان ایک موٹی ربر جیسی ڈسک ہوتی ہے جو ریڑھ کی ہڈی میں لچک پیدا کرتی ہے اور مہروں کو آپس میں رگڑنے سے محفوظ رکھتی ہے۔ یعنی کہ یہ ایک شاک ابزاربر جیسی ہوتی ہے۔ مہروں کی خرابی یا چوٹ لگنے کی صورت میں یہ ڈسک کبھی کبھی پھیل جاتی ہے اور حرام مغز پر دبائو ڈالنے لگتی ہے۔ ریڑھ کی ہڈی کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پہلا حصہ گردن کے مہرے جن کو سروائیکل اسپائن کہا جاتا ہے۔ یہ کل سات ہوتے ہیں۔ عام میڈیکل زبان میں یہ C1 سے C7 کہلاتے ہیں۔
دوسرا حصہ گردن سے نیچے سے لے کر کمر کے درمیانی حصے کو تھوریسک اسپائن کہا جاتا ہے اور یہ تعداد میں بارہ ہوتے ہیں۔ ( T1-T12) -
اس کے نیچے کے چار اسپائن کو لمبر اسپائن کہا جاتا ہے۔
‏ (L1-L4)- 
اس کے نیچے سیکرل یا دمچی کی ہڈی ہوتی ہے۔ اور سب سے آخر میں کوکس۔ آج ہم صرف گردن کے مہروں کی بات کریں گے۔ ان میں خرابی عمر کے مسائل کےساتھ ساتھ کسی چوٹ یا حادثے کی صورت 
میں بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ خصوصا" گردن میں چوٹ لگنے سے اگر مہرے دب جائیں تو بڑا پیچیدہ مسئلہ بن جاتا ہے۔ انتہائ ہٹیلا اور ڈھیٹ مرض ہے۔ اس میں جب مہروں کے درمیان کی ڈسک دب کر حرام مغز پر دبائو ڈالتی ہے تو طرح طرح کی پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔ گردن کے کل سات مہرے ہوتے ہیں اور ہر مہرے کی ڈسک دبنے کے مختلف ا۔ثرات ہوتے ہیں۔ ان میں سردرد، میگرین، ہلکی نوعیت سے لے کر شدید نوعیت کے چکر، ہاتھوں اور بازئوں میں درد اور سن ہو جانا، دل کے اطراف درد محسوس ہونا، دم گھٹنا، معدے کی تکلیف، وغیرہ وغیرہ۔ زندگی عزاب کرنے والا مرض ہے۔کس مہرے کے دبنے سے کیا کیا مسائل پیدا ہو سکتے
ہیں اس کے لئے تصویر میں چارٹ دیکھئے۔ 
اس کا علاج عام طور پر درد کش ادویات اور کسی جیل یا تیل کے مساج وغیرہ سے کیا جاتا ہے۔ ہلکی پھلکی تکلیف میں تو دوا سے وقتی ارام آ جاتا ہے لیکن مرض بڑھنے کی صورت میں لوگ مستقل سالوں تک درد کش ادویات استعمال کرتے ہیں۔ پھر اس کا علاج فزیو تھراپی کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ فزیو تھراپی کے بعد آپکو کچھ ورزشیں بتائ جاتی ہیں جو آپ کو دن میں کم از کم دو مرتبہ ساری زندگی کے لئے کرنی ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ کالر لگانا، پوسچر بیلٹ کا استعمال وغیرہ۔ لیکن مرض یہ پھر بھی گاہے بگاہے تنگ کرتا ہے۔ 
ادویات سے کوئ فائدہ نہیں ہوتا۔ فزیو تھراپی سے وقتی فائدہ ہوتا ہے جس کے کچھ عرصے بعد پھر مرض واپس آجاتا ہے۔ شروع میں ڈاکٹر ادویات اور مساج و فزیو تھراپی سے کام چلاتے ہیں۔ لیکن اگر مرض شدید نوعیت کا ہو جائےتو اس کا آخری علاج آپریشن ہے جو ام طور سے نیورو سرجن یا نیورو اسپئنل سرجن کرتا ہے۔ یہ ایک نازک اور پیچیدہ آپریشن ہوتا ہے جس کو ڈاکٹر آ خری آپشن کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اب سرجری میں بھی جدید طریقے متعارف ہوئے ہیں اور پہلے کی نسبت اس کے اپریشن میں رسک فیکٹر کم ہے۔ اس کے سرجن بھی پاکستان میں کم ہیں اور لاگت بھی کافی مہنگی ہوتی ہے۔ کچھ مشہور نیورو اسپائن سرجنز کے نام اور ویب سائٹس۔
Image result for Cervical Spondylosis

اکثر اس کے مریض در بدر خوار ہوتے پھرتے ہیں۔کبھی پہلوان کبھی مساج کبھی کوئ بابا جو مہرے ٹھیک کردیتا ہے وغیرہ وغیرہ۔لیکن جب تک کہ ڈسک کا پریشر اسپائنل کارڈ پر سہے نہیں ہٹے گا یہ برقرار رہے گا۔ اب اس کا جدید ترین طریقوں سے آخری علاج آپریشن ہے لیکن اس کا اپریشن اتنا نازک اور پیچیدہ ہے کہ بالکل آخری چوائس ہے۔ اس کے ماہر سرجن بھی پاکستان میں بہت کم ہیں۔ اس کی الٹر نیٹو تھراپیز پر بہت کام ہوا ہے جس میں بغیر آپریشن مہروں کا علاج کیا جاتا ہے
KKT
۔ ۔ ان میں سے ایک KKT ہے جو کہ بنیادی طور پر کینیڈا کی ٹیکنیک ہے۔ KKT دراصل مخفف ہے Khan's Kinetic Treatment۔ یہ کینیڈا میں ایک پاکستانی ڈاکٹر کا ایجاد کردہ طریقہ ہے جس میں ایک خاص مشین کے ذریعے خاص طرح کی آواز کی لہروں کو آپکی ریڑھ کی ہڈی سے گزارا جاتا ہے جس سے ریڑھ کی ہڈی کی خرابیاں دور ہونے لگتی ہیں۔ یہ علاج کم از کم دو ماہ چلتا ہے اور کافی مہنگا ہے۔ لاکھوں میں بات پہنچتی ہے۔ اس وقت KKT. کے تین مراکز پاکستان میں کام کر رہے ہیں 
لاہور، کراچی اور اسلام اباد۔۔۔۔ مزید آپ گوگل پر سرچ کر سکتے ہیں۔
KKT ( Orthopedic Spine Center )

OZONE TREATMEN
دوسرا آلٹر نیٹو اوزون ٹریٹمنٹ ہے۔ یہ بھی جدید ترین اور کافی موثر علاج ہے۔ اس میں متاثرہ مہرے میں اوزون کا انجکشن لگایا جاتا ہے جس سے پھیلی ہوئ ڈسک سکڑ جاتی ہے اور اسپائنل کارڈ سے دبائو ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے نتائج کافی حوصلہ افزا ہیں۔ میری معلومات کے مطابق اس کے صرف ایک ڈاکٹر لاہور میں ہیں جو اس طریقے سے علاج کرتے ہیں۔

تیسرا اس میں ایکو پنکچر بھی بہت مفید ہے بشرطیکہ ایک ماہر تجربہ کار سے مستقل مزاجی سے علاج کروایا جائے۔ اکوپنکچر میں بھی اس کا دورانیہ دو ماہ سے لے کر چھ ماہ تک کا ہو سکتا ہے۔ایکو پنکچر کے لئے کراچی پی ای سی ایچ بلاک دو میں ایک انتہائ ماہر اور تجربہ کار ڈاکٹر ارشاد کا Akumed سینٹر ہے۔ ڈاکٹر صاحب باقاعدہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں۔ فوج سے ریٹائرڈ ہیں۔ اسی سال عمر ہے لیکن جناب کیا ہی فرشتہ شخصیت ہیں۔ ان کے تجربے کے آگے شاید ہی کوئ دوسرا ایکوپنکچرسٹ پاکستان میں ہو۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر صاحب ریکی اسپیشلسٹ بھی ہیں۔ دوسرے شہروں کے رہنے والے اپنے علاقے میں کسی اچھے ایکوپنکچرسٹ سے رابطہ کریں۔
Akumed & Reiki Centre | 
Head Office. Address : 93-F, Block 2, P.E.C.H.S, Main Shahrah-e-Quaideen, PECHS, Karachi-Pakistan

Image result for Cervical Spondylosis
Stem Cell Therapy
چوتھا جدید ترین علاج اسٹیم سیل تھراپی ہے۔ اس تھراپی پر پوری دنیا میں کام ہو رہا ہے۔ یہ انتہائ معجزاتی اور حیران کن دریافت ہے کہ جس کی مدد سے مستقبل میں انسانی اعضا بھی بنائے جا سکیں گے۔ اسٹیم سیل تھراپی کیا ہے اس کے لئے گوگل دیکھئے۔ میری معلومات کے مطابق اس کے ماہر بھی کراچی یا پاکستان میں صرف ایک ہی ہیں جن کا نام ۔ڈاکٹر زبیر مرزا ہے اور وہ کراچی ڈیفنس میں کلینک کرتے ہیں۔
Disc Decompression
پانچواں علاج دبے ہوئے مہروں کا اسپائنل ڈی کمپریشن ہے۔ یہ بھی ایک خاص تکنیک ہے جو ایک خاص مشین پر کی جاتی ہے۔ اس کے لئے گوگل پر اسپائنل ڈی کمپریشن سرچ کیجئے۔ 
امید ہے کہ ان امراض میں مبتلا افراد کے لئے میری یہ تحریر کافی مددگار ثابت ہوگی-
یہ سب میں نے اس لئے بتایا ہے کہ اس کا مریض جگہ جگہ خوار ہوتا ہے۔ کوئ اسٹیرائڈز کے ایپی ڈیورل انجکشن لگاتا ہے تو کوئ فزیو تھراپی تو کوئ کچھ اور لیکن مستقل فائدہ نہیں ہوتا۔ فائدہ تب ہی ہوگا جب ڈسک کا پریشر ہٹے گا یا مہروں کی خرابی دور کی جا سکے گی۔ ۔اکثر گھروں میں بوڑھے افراد ماں باپ یا کوئ اور ان امراض میں مبتلا ہیں اور صحیع علاج نہ ہونے کی وجہ سے سخت اذیت میں ہیں۔ آجکل تو یہ مرض نوجوانوں میں بھی عام ہو چکا ہے اور خدانخواستہ کسی چوٹ یا حادثے کی صورت میں شدید نوعیت کے مسائل بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ 
یہ وہ جدید ترین علاج ہیں جو دستیاب ہیں۔ 
ادھر ادھر خوار ہونے سے بہتر ہے کہ ان جگہوں کا انتخاب کیجئے۔ اگر میری اس کاوش سے آپ کو یا آپکے کسی پیارے کو فائدہ ہوتا ہے تو
دعائوں میں ضرور یاد رکھئے کہ بہت ضرورت ہے۔ 
نوٹ:اگر آپ کے علاقے میں ایسا کوئ روحانی معالج ہے جو کہ واقعی مہروں کی خرابی کو کسی دم درود سے دور کردیتا ہو تو ضرور شیئر کیجئے۔ ان میں سے ننانوے فیصد تو محض ڈھکوسلے بازی ہوتی ہے لیکن کہیں کہیں کسی جگہ واقعی کچھ لوگ ایسے ہیں جو روحانی علاج سے اس کو درست کردیتے ہیں۔ تو جناب اگر واقعی آپکا تجربہ شدہ اور آنکھوں دیکھا کوئ ایسا ہو تو ضرور آگاہ کیجئے۔