Saturday, May 26, 2018

درانی اور دولات نے پاکستان اور بھارت کے تلخ میٹھی تعلقات پر روشنی ڈالی۔


درانی اور دولات نے پاکستان اور بھارت کے تلخ میٹھی تعلقات پر روشنی ڈالی۔

Image result for spy chronicles



دونوں ملکوں کے جاسوس ایجنسیوں میں سے دو سابق ڈی آئی ہے جو پاکستان اور بھارت کے درمیان موجود متحرکیت سے نا واقف نہیں ہیں میدان میدان اور ملک کی کہانی کی زمین میں مل کر آتے ہیں. انٹیلی جنس کمیونٹی کے اندر اور شاید اس سے بھی زیادہ متوقع کتاب میں، ان کے سابق چیف آف انٹیلی جنس کی طرف سے دونوں ممالک کے بارے میں آپریشن، واقعات اور زیادہ سے زیادہ رائے کے بارے میں ایک افسوس ہے.
کتاب درانی اور دولات کے درمیان کتاب میں ایک آرام دہ اور پرسکون بات چیت میں ایک غیر معمولی نظر پیش کرتے ہوئے عام انسانی پہلو کو الگ کرتی ہے. جاسوسی ایجنسیوں کے سابق سربراہان ان کے اوقات اور واقعات کو یاد کرتے ہیں جنہوں نے اپنے متعلقہ ممالک میں ظاہر کی. کارگل سے کشمیر، لاہور، اری اور ممبئی سے سوویتوں اور امریکی اور بن لادن سے افغانستان، مہنگی چین تک افغانستان کے سخت خطے میں اور پیچھے سے - دونوں دونوں کے بارے میں مزید معلومات کا اشتراک کیا ہے.

ان کے خیالات ہر طرف مسائل کو حل کرنے کا مجرم قرار دیتے ہیں اور جبچہ نمک کے اناج کے ساتھ لے جانے کی ضرورت ہے، درانی اور دولت نے پاکستان اور بھارت کے کڑھائی تعلقات پر روشنی ڈالی.

تاہم، کتاب ابھی تک ان کے اوقات کی ذاتی اکاؤنٹس ہے. واقعات کے مکمل افشاء کرنے کے بغیر، دونوں اس سے متعلق سوالات اور تحریر کے لئے بہت سے سوالات اور نظریات کو چھوڑ دیتے ہیں جب اس طرح آئی ایس آئی اور را کے کاموں کے درمیان کچھ اسی طرح کے پوائنٹس ڈرائنگ کرتے ہیں. خوشحسن اور حافظ سعید کے معاملات پر بات چیت کے لئے ایک عنوان میں بحث کی جاتی ہے.

تاہم، درانی نے اس ایجنسی کے زیادہ اہمیت کا اظہار کیا ہے جب وہ قیادت کے دوران پاکستان کے سابق صدر مشرف پر بھی تنقید کرتے ہیں، جبکہ بعد میں بتھ نے پاکستان کی جانب سے ہندوستانی نقطہ نظر کے واقف ڈرامے کو دھکیل دیا اور دہشت گردی کی حمایت کی. دولت واجپئی کے اوقات پر بتاتا ہے اور دونوں کے سروں پر سیاسی اور فوجی صورتحال کے باوجود پاکستان کے ساتھ آگے چلنے کی کوششیں.

افغانستان پر بات چیت کرتے ہوئے، دولت نے بالی ووڈ کی نرم طاقت کی صلاحیت قبول کی. افغانستان میں بھارت اور پاکستان کی شمولیت کے لۓ، ایسا کرنے کی ضرورت ہے جو کچھ کرنے کی ضرورت ہے. دونوں ملکوں کے مختلف سیاسی اور فوجی نظریات ایک موضوع ہے جس میں کتاب میں بھی شامل ہے.

قریب ترین بابر درانی اور دولت کی طرف سے تجویز کردہ حکمت عملی پیش کرتے ہیں پاکستان اور بھارت کے درمیان برادری پر قابو پانے کے لئے. دولت الدین اعتماد کی تعمیر کے لئے وکالت کرتے ہیں جبکہ درانی طویل عرصہ تک طویل عرصے کے دوران پائیدار ڈھانچے کے لئے انتخاب کرتے ہیں- لوگوں سے لوگوں کے پیچھے بیک ڈیل چینلز کے مسلسل استعمال کے لۓ بات چیت. نتیجہ یہ ہے کہ دونوں پر اتفاق ہے. وہاں مزید جنگ نہیں ہونا چاہئے اور "پاگلپن" کو ختم کرنے کی ضرورت ہے.

اس کو کال کریں جسے "آنکھیں صرف" یا "رازداری" کے بارے میں معلومات پر اڑانے یا سرمایہ کاری کرنا پڑتا ہے، یہ کتاب ایک غیر معمولی ٹکڑا، تقریبا افسانوی اور بہت سے لوگوں کے لئے بیت ہے. موجود انٹیلی جنس کے سربراہان کی طرف سے یہ کتنی اچھی طرح سے موصول ہوسکتی ہے یا نہیں ہوسکتا ہے، سوالات کا نشان رہتا ہے، لیکن فائلوں یا بیک اپ میں دفن کیے جانے والے جواب میں اس کے نتیجے میں ہوسکتا ہے. لیکن حقیقت یہ ہے کہ کانفرنس کے ہالوں کے مذاکرات کے باہر، حقیقت حقیقت ظاہر کر رہا ہے.


مفت کتاب ڈونلوڈ کریں
Image result for download button


آئن سٹائن اور اُس کی بیوی

آئن سٹائن اور اُس کی بیوی
Image result for albert einstein wife

آئن سٹائن نے دوسری شادی مائلیوا نامی خاتون سے کی، اِس شادی کی دلچسپ بات وہ معاہدہ ہے جو اُس نے اپنی بیوی کے ساتھ کیا، معاہدے میں طے پایا کہ اُس کی بیوی اُس کے کپڑے اور سامان ہمیشہ صاف اور بہترین حالت میں رکھے گی،تینوں وقت کا کھانا آئن سٹائن کو اُس کے کمرے میں دیا جائے گا، آئن سٹائن کے کمرے، سٹڈی روم اور خاص طور پر اُس کی میز بالکل صاف رکھی جائے گی اور کوئی فالتو چیز یہاں نظر نہیں آئے گی، جب تک آئن سٹائن کا موڈ نہ ہو بیگم اُس سے کوئی بات نہیں کرے گی، آئن سٹائن دیگر لوگوں کے سامنے اپنی بیگم سے لاتعلق رہے گا! غالباً یہی وہ مجاہدانہ اقدام ہیں جن کی بدولت آئن سٹائن نے اتنی ذہانت پائی۔
میں سوچ رہا ہوں کہ اگر آئن بھائی اپنی بیوی سے اتنا سخت رویہ نہ رکھتے اور نرمی سے پیش آتے تو صورتحال کیا ہونی تھی۔
بیوی: آئن۔۔۔وے آئن۔۔۔!!!
آئن سٹائن: جی جان۔۔۔کیاہوا؟؟؟
بیوی : وے کوکنگ آئل ختم ہوگیا ہے!!!
آئن سٹائن: اوہو۔۔۔جان ابھی دو دن پہلے تو لایا تھا۔
بیوی: وے یاد کر۔۔۔تجھے پانچ کلو کاڈبہ لانے بھیجا تھا اور تُو کلو والا پیکٹ لے آیا تھا۔
آئن سٹائن: اچھا تھوڑی دیر تک لادیتا ہوں، ذرا ایک سائنسی تھیوری لکھ لوں۔
بیوی: وے اگ لگے تیری سائنس کو۔۔۔آئل لے کے آ ، اور ہاں ایک پیکٹ ماچسوں کا اور پانچ روپے کا ’’استنبول کا چھلکا‘‘ بھی لیتے آنا
آئن سٹائن : پلیز جان۔۔۔بس صر ف آدھے گھنٹے کی مہلت دے دو،میری ریسرچ مکمل ہونے والی ہے۔
Image result for albert einstein wife

بیوی: دفع دور۔۔۔جب دیکھو سائنس ،جب دیکھو سائنس۔۔۔نہ تونے اتنی سائنس پڑھ کے کون سا عالم لوہار بن جانا ہے؟؟؟
آئن سٹائن: پلیز جان ایسا مت کہو۔۔۔سائنس میری زندگی ہے، میں ہر وقت سائنس کے حصار میں رہتا ہوں۔
بیوی: ہا۔۔۔ہائے۔۔۔شادی سے پہلے تو تم نے کہا تھا کہ میں گڑھی شاہو میں رہتا ہوں؟؟؟
آئن سٹائن: اوہو جان، میرا مطلب ہے کہ میں ہروقت سائنس میں گم رہتا ہوں، سائنس میرا عشق ہے، میرا پیار ہے۔
بیوی: لخ لعنت ہے بھئی تیرے عشق پر۔۔۔اگر اتنا بڑا سائنسدان ہے تو میری ایک بات کا جواب دے۔۔۔!!!
آئن سٹائن: پوچھو جان۔۔۔!!!
بیوی: چل یہ بتا میری وڈی خالہ کا السر کب ٹھیک ہوگا؟؟؟
آئن سٹائن: وہ۔۔۔مم۔۔۔مجھے کیا پتا؟؟؟
بیوی: مجھے پہلے ہی پتا تھا تیرے جیسے نکمے بندے کو سواہ تے مٹی پتا ہونا ہے۔۔۔روندا سائنس نوں۔۔۔!!!
آئن سٹائن: پپ۔۔۔پلیز جان۔۔۔اگر اجازت ہو تو تھوڑا کام کرلوں؟؟؟
بیوی: وے کام تونے کیا کرنا ہے، ویلیاں کھائی جاتا ہے، ہزار دفعہ کہا ہے
میرے تائے کے بیٹے کے ساتھ سبزی منڈی چلا جایا کر، وہ بھی بہت
بڑا سائنسدان ہے۔۔۔!!!
آئن سٹائن: وہ کیا کرتاہے جان؟؟؟
بیوی: سبزی منڈی میں بڑے اور چھوٹے پیاز الگ الگ کرتاہے۔۔۔!!!
آئن سٹائن: لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ۔۔۔جان کہاں وہ ، کہاں میں۔۔۔!!!
بیوی: ظاہری بات ہے کہاں وہ روز کا دو سوروپیہ کمانے والا اور کہاں تُوسسرالیوں کے ٹکڑوں پر پلنے والا۔۔۔!!!
آئن سٹائن : پلیز جان۔۔۔ایسے تو نہ کہو۔۔۔میرے سسرالی تو خود لنگر پر گذارہ کرتے ہیں۔۔۔!!!
بیوی: کیا کہا؟۔۔۔وے تیرا بیڑا غرق۔۔۔تیری ریسرچ میں کیڑے پڑیں۔۔۔وہ نہ مدد کریں تو تُو بھوکا مرجائے۔۔۔!!!
آئن سٹائن: اچھا پلیز جان۔۔۔یہ لڑائی بعد میں کرلینا۔۔۔میرا ذہن کسی اور طرف ہے۔۔۔!!
بیوی: مجھے پہلے ہی شک تھا، سامنے والی ہمسائی کی کھڑکی بھی تھوڑی سی کھلی ہوئی ہے، سچ سچ بتا آئن سٹائن۔۔۔تیرا ذہن کس کی طرف ہے؟جھوٹ بولا تو میں تیری سائنس بند کردوں گی۔
آئن سٹائن: فار گاڈ سیک جان۔۔۔میرے پاس ایسے کاموں کے لیے وقت نہیں، میرا دماغ تو ہر وقت اپنے سائنسی کام میں مگن رہتا ہے۔
بیوی: سب جانتی ہوں میں تیرے نکمے سائنسی دماغ کو۔۔۔ٹی وی کا ریموٹ تو تجھ سے ٹھیک ہوتا نہیں، وڈا آیا سائنسدان۔۔۔!!!
آئن سٹائن: (آہ بھر کر) ٹھیک ہے میری جان۔۔۔آج سے سائنس ختم، کل سے میں بھی سبزی منڈی جایا کروں گا۔۔۔!!!
بیوی: (خوشی سے) واقعی؟۔۔۔ہائے آئن سٹائن۔۔۔تم کتنے جینئس ہو۔۔۔!!!
(تحریر: نامعلوم)

جنرل اسد درانی کی کتاب "The Spy Chronicles"

Image may contain: 2 people, text

جنرل اسد درانی کی کتاب
۔۔۔۔
سابق آئی ایس آئی چیف جنرل درانی 1993ء میں پاک فوج سے ریٹائرڈ ہوئے۔
موصوف نے اعتراف کیا تھا کہ بے نظیری کو ہروانے کے لیے ائی ایس آئی نے سیاسی جماعتوں میں اتحاد کروایا تھا۔ اس اعتراف کے عوض ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد اسد درانی کو بے نظیر بھٹو نے جرمنی میں سفیر لگا دیا تھا۔

(بے نظیر کے خلاف بنائے گئے اس سیاسی اتحاد کا اعترف مرحوم جنرل حمید گل بھی کرتے رہے اور ان کا دعوی تھا کہ وہ اتحاد بلکل درست تھا اور آئی ایس آئی کے پاس موجود اطلاعات کے مطابق بے نظیر اس وقت اقتدار میں رہ کر قومی سلامتی خاص کر پاکستان کے نیوکلئیر پروگرام کے لیے خطرہ بن سکتی تھیں)
اسد درانی نے سابق انڈین اینٹلی جنس چیف اے ایس دلت کے ساتھ ملکر ایک کتاب لکھی ہے۔ جس کو انڈیا نے زور و شور سے پبلش کیا ہے۔ اس کتاب میں موصوف نے کچھ حیران کن دعوے کیے ہیں اور بہت سے معاملات میں انڈین موقف کی تائید کی ہے۔ مثلاً "کارگل پاکستان اور مشرف کی غلطی تھی اور پاکستان شکست کھا رہا تھا" ( جبکہ دوسری جانب کئی سابق انڈین آرمی افسران انڈین شکست کا اعتراف کرتے نظر آتے ہیں ) " افغانستان میں انڈین کونسل خانوں کی تعداد پاکستان بڑھا چڑھا کر بیان کر رہا ہے اور وہ کونسل خانے پاکستان کے خلاف جاسوسی یا دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہو رہے" (موصوف نے یہ نہیں بتایا کہ پھر وہ کونسل خانے کیا کام کرتے ہیں اور اپنی ریٹائرمنٹ کے دو عشروں بعد اس نے کب افغانستان جاکر وہ کونسل خانے گنے ہیں؟)


Image result for the spy chronicles


سب سے حیران کن انکشاف اسامہ کے بارے میں کیا ہے کہ اس کے لیے جنرل کیانی کو اعتماد میں لیا گیا تھا اور اسامہ کی اطلاع بھی شکیل آفریدی نے نہیں بلکہ ایک ریٹائرڈ آئی ایس آئی اہلکار نے امریکہ کو دی تھی اور اسامہ کو زندہ امریکہ کے حوالے کیا گیا تھا۔ موصوف نے آگے لکھا ہے کہ مجھے نہیں معلوم کہ اسامہ کے سر پر موجود پانچ ملین ڈالر انعام میں سے اس اہلکار کو کتنے ملے ہونگے۔ 

(خیال رہے کہ اسامہ کا واقعہ جنرل موصوف کی ریٹائرمنٹ کے بیس سال بعد پیش آیا۔ اس حوالے سے انتہائی باخبر رہنے والے بڑے بڑے صحافتی ادارے اور شخصیات کے علاوہ کئی ممالک کی اینٹلی جنس ایجنسیاں بھی بے خبر ہیں لیکن جنرل اسد درانی صاحب کو ایک ایک بات کا پتہ ہے) 
جو لوگ پاک فوج اور آئی ایس آئی کے بارے میں ذرا سا بھی جانتے ہیں انہیں پتہ ہے کہ فوج اور آئی ایس آئی کے مختلف بازو ایک دوسرے سے بھی حساس معلومات شیر نہیں کرتے جب تک ضروری نہ ہو۔ 

لیکن یہاں پچیس سال قبل رئٹائرڈ ہونے والے سابق افسر کے انکشافات سے یوں معلوم ہو رہا ہے جیسے آئی ایس آئی اپنی ہر ایکٹوٹی کم از کم جنرل اسد درانی صاحب کو ضرور بتاتی رہی تاکہ سند رہے اور بوقت ضرور کام آئے۔ یا دوسرا یہ ہو سکتا ہے کہ اسد درانی صاحب آئی ایس آئی کے متوازی اپنا کوئی ذاتی اینٹلی جنس نیٹ ورک چلا رہے ہوں جس کا کام آئی ایس ائی کی نگرانی کرنا ہو؟
جنرل اسد درانی اپنی کتاب کی پبلسٹی کے لیے کافی پرجوش ہیں اور وہ انڈیا جانے کے لیے بھی بے تاب نظر آرہے ہیں۔

Image result for the spy chronicles

میں نے اس کی کتاب نہیں پڑھی۔ اوپر بیان کیے گئے انکشافات وہ ہیں جو اب تک میڈیا کے ذریعے سامنے آئے ہیں۔ میری رائے میں ریٹائرڈ جنرل اسد درانی کی یہ کتاب تنہائی سے اکتائے ایک سٹھیائے ہوئے بڈھے کی منظر عام پر آنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں جس سے شائد وہ چند پیسے بھی کمانا چاہتا ہے۔ کتاب من گھڑت اور جھوٹے واقعات سے لبریز ہے۔

میرے خیال میں پاک فوج کو اسد درانی کا کورٹ مارشل کرنا چاہئے اور ان سے مطالبہ کرنا چاہئے کہ کتاب میں بیان کیے گئے دعوؤں کو ثابت کریں اور ان دعوؤں کا سورس بتائیں۔ گندے انڈے ہر جگہ ہوتے ہیں۔ کچھ انڈے وقت گزرنے کے ساتھ گندے ہوجاتے ہیں۔ جنرل اسد درانی اور جنرل شاہد عزیز بھی اسی ٹائپ کے گندے انڈے ہیں۔ میرے خیال میں اب ان گندے انڈوں کو توڑ کر پھینکنے کا وقت آگیا ہے۔ نواز شریف اس کتاب پر کمیشن بنوانا چاہتے ہیں۔ نواز شریف کو علم ہونا چاہئے کہ اسی جنرل نے دعوی کیا تھا کہ نواز شریف نے آئی ایس آئی سے رشوت لی تھی اس پر بھی کمیشن بننا چاہئے یا نہیں؟
۔۔۔۔
وقاص چودھری


مفت کتاب ڈونلوڈ کریں
Image result for download button

Friday, May 25, 2018

سازشیں کرنے والوں کا انجام


سازشیں کرنے والوں کا انجام 

یہ عبرت کی جا ہے، تماشہ نہیں ھے !
۔۔۔۔
ٹیپو سلطان کی ریاست میسور پر ایسٹ انڈیا کمپنی کی نظر کافی عرصے سے تھی لیکن وہ اسے فتح کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ پھر انگریزوں نے مراٹھوں، حیدرآباد کے نظاموں، کئی دوسری ریاستوں کے راجاؤں اور نوابوں کو ساتھ ملایا۔ ٹیپو سلطان کی ٹیم سے میر صادق جیسے غداروں کو ساتھ ملایا اور بالآخر ٹیپو سلطان کی فصیل عبور کر کے اسے دھوکے سے شہید کر کے میسور فتح کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ تاہم ٹیپو سلطان کے خلاف سازش کرنے والے عناصر کے ساتھ قدرت نے کیا کیا، یہ بھی بہت دلچسپ داستان ہے۔ غدار میر صادق کو ٹیپو سلطان کے وفاداروں نے قتل کر کے اس کی لاش کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دی جہاں کئی دن تک اسے کیڑے کھاتے رہے۔ میسور فتح کرنے کا ماسٹر مائینڈ جیمز کرک پیٹرک نامی شخص تھا جس نے ٹیپو سلطان کے خلاف انگریز اور حیدرآباد کے نظام کا اتحاد قائم کرنے میں مدد دی۔ جیمز کو پہلے تو جلدی بیماری نے آن لیا اور پھر جگر کا عارضہ لاحق ہو گیا۔ جگر کی دوا کھاتا تو جلد کی بیماری بڑھ جاتی، جلد کی دوائی کھاتا تو جگر جلنے لگتا۔ بالآخر وہ اپنے رشتے داروں سے دور کلکتہ کے ایک کیمپ میں ہیپاٹئٹس سے بلک بلک کر مر گیا۔
Image may contain: 2 people

حیدرآباد کے حاکم نظام علی خان پر بھی ٹیپو سلطان کی شہادت کے فوراً بعد فالج کا اٹیک ہو گیا جو اتنا شدید تھا کہ ایسے لگتا تھا کہ کسی نے جادو سے اسے ساکت کر دیا ہو۔ اسی فالج کے ہاتھوں وہ دردناک موت مرا۔
نظام علی خان کا شاطر وزیر، میر عالم تھا جو اسے ساری چالیں بتایا کرتا تھا، اسے بھی ایک موذی جلد کی بیماری نے آن لیا جو اتنی خطرناک تھی کہ جو کوئی بھی اس کے نزدیک جاتا، اسے بھی لگ جاتی۔
چنانچہ میر عالم کو شہر سے باہر کسی کھنڈر میں بھیج دیا گیا جہاں اس کے کھنڈر سے سو میٹر دور کھانا رکھ دیا جاتا۔ یوں میرعالم نے بھی اپنی فیملی سے دور ایک کھنڈر میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر جان دے دی۔
Image may contain: 1 person

میسور فتح کرنے کے بعد مراٹھاؤں کی آپس میں ناچاقی شروع ہوگئی، ہنگامے پھوٹ پڑے، فساد شروع ہو گیا اور انہوں نے ایک دوسرے کے گلے تلواروں سے کاٹنا شروع کر دیئے۔ پونا نامی مراٹھاؤں کا ایک اہم ٹاؤن ہوا کرتا تھا جسے دنوں میں جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا دیا گیا۔
مراٹھا سردار جسونت راؤ اپنا دماغی توازن کھو بیٹھا اور خطرناک پاگل پن کے دورے پڑنے لگے۔ چنانچہ اسے لوہے کی موٹی زنجیروں میں جکڑ دیا گیا اور دن میں ایک مرتبہ صرف آدھ پاؤ دودھ ہی پینے کو دیا جاتا۔ پاگل پن اور لاغر پن کی وجہ سے وہ چند دنوں میں سوکھ کر ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گیا اور زنجیروں میں بندھے اپنے انجام کو پہنچا۔
Image may contain: 1 person
ایسٹ انڈیا کمپنی کے لارڈ کارن والیس کو ٹیپو سلطان کی شہادت کے فوری بعد پیچش کا شدید مرض لاحق ہوا جو آگے چل کر بڑی آنت کا کینسر بن گیا۔ پاخانہ کرتے وقت لارڈ والس اتنی بھیانک چیخیں مارتا کہ جو کوئی بھی سن لیتا، وہ نفسیاتی مریض بن جاتا۔ جب وہ مرا تو اس کا جسم اپنی ہی گندگی میں لتھڑا ہوا تھا۔
Image may contain: 1 person, standing

گورنر جنرل مارکس ویلزلے بھی زلت آمیر موت مرا۔ اس کا نروس بریک ڈاؤن ہوگیا اور وہ پورے دس دن تک بغیر کچھ کھائے پئے بستر پر لیٹا رہا اور اسی حالت میں جان دے دی۔ مرنے سے چند دن پہلے اس نے کانپتے ہاتھوں سے ایک تحریر لکھی جو کچھ یوں تھی:
" پچھلے چند دنوں کے اندر اندر میں ایک صحت مند انسان سے ایک ڈھانچے میں تبدیل ہو کر رہ گیا ہوں، میری رنگت پیلی پڑ گئی، میرا جسم کانپتا رہتا ہے، نقاہت اتنی کہ میں چل بھی نہیں سکتا۔ میں دماغی طور پر موت کا شکار ہو چکا، میں اس بستر پر پڑا پڑا تباہ ہو چکا، ہر کوئی جانتا ہے کہ میں یہیں پڑے پڑے مر جاؤں گا ۔ ۔ "
یہ تھا احوال ان غداروں کا جنہوں نے سازش کرکے میسور پر قبضہ کیا اور غداری کی تاریخ رقم کی۔ اتفاق کی بات ہے کہ ٹیپو سلطان کی شہادت بھی مئی کے مہینے میں ہوئی اور نوازشریف کی طرف سے ملک کے ساتھ غداری والا بیان بھی مئی کے مہینے میں ہی آیا۔
مؤرخ ہمیشہ مصروف رہتا ہے اور تاریخ لکھنے کا عمل جاری رہتا ہے۔ نوازشریف کی حالیہ غداری کی تاریخ بھی لکھی جارہی ہے اور آنے والی نسلیں جہاں میرصادق، میرجعفر، نظام علی خان، میر عالم، جسونت راؤ، لارڈ والیس اور گورنر مارکس کے قصے پڑھیں گی، وہیں ان کے ساتھ ساتھ نوازشریف کی غداری کی عبرتناک تاریخ بھی پڑھنے کو ملے گی۔
مؤرخ ہمیشہ مصروف رہتا ہے، غداروں کی غداری کے قصے قلمبند کرنا اس کا سب سے محبوب مشغلہ ہوتا ہے!
۔۔۔
وقاص_چودھری

Thursday, May 24, 2018

پولیو ویکسین


پولیو ویکسین 
Image may contain: 1 person, smiling, sitting and indoor

میں کینسر کی وجہ بننے والے بندر کے وائرس کی دریافت اور اس حوالے سے خفیہ حیاتیاتی ہتھیاروں کا پروجیکٹ اور اس کے انکشاف پہ ڈاکٹر میری شیرمین کا دردناک قتل۔
۔۔
1960ء میں طبی تحقیقات نے اس کی تصدیق کی پولیو کی ساک ویکسین (ipv) میں سیمین وائرس 40 یا sv 40 موجود ہے جو کہ کینسر کی وجہ بننے والا ایک وائرس ہے جو کہ اس ویکسین میں بندر کے گردوں کے خلیوں سے آیا تھا جو کہ اس پولیو ویکسین کی تیاری کے لیے استعمال کیے گئے تھے۔
1950ء کے عشرے کے وسط سے 1960ء تک کینسر کے وائرس رکھنے والی یہ ویکیسین 98 ملین یعنی لگ بھگ دس کروڑ انسانوں کو کھلائی جاتی جا چکی تھی۔ 1960 ء کے بعد اس ویکسین کے کئی ملین مزید نمونے تیار کرکے انسانوں میں منتقل کیے گئے۔ لیکن اس بارے میں مکمل خاموشی اختیار کی گئی۔ یہاں تک کہ پہلی قابل عمل پولیو ویکسین بنانے والے ڈاکٹر سابن نے اس کے بارے میں اس طرح انکشاف کیا۔۔۔
" عوام کو ہراساں کرنے کے لیے یہ بہت ہی زیادہ ہے۔
اوہو!
آپ کے بچوں کو وہ ویکسین دی گئی جس میں کینسر کی وجہ بننے والے وائرس موجود تھے۔یہ بہت برا ہے۔"
طبی تحقیقات کرنے والوں نے بیسویں صدی کے آخری پچاس سالوں میں کینسر کی شرح میں خوفناک اضافے کو بیان کیا جو کہ 1950ء یعنی اس پولیو ویکسین سے پہلے نامعلوم تھے۔ان کے مطابق اس کی وجہ پولیو ویکسین میں موجود سیمین وائرس تھا۔
کینسر کی وجہ بننے والے وائرس کی دریافت کے جلد ہی بعد , امریکی حکومت نے ایسے خفیہ منصوبے شروع کیے جن کا مقصد کینسر کو ایک حیاتیاتی ہتھیار کے طور پہ استعمال کرنا تھا۔ کینسر کی وجہ بننے والے ان وائرس کو لائنیئر پارٹیکل ایکسلیریٹر کے ذریعے ان کا جینیاتی مواد تبدیل کیا گیا۔ پھر ان کو چوہوں میں منتقل کیا گیا تاکہ ان سے کینسر کے پیدا ہونے پہ تحقیق کی جا سکے۔
ڈاکٹر میری شرمین کو اس خفیہ تحقیق کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔1964ء میں خاتون ڈاکٹر شرمین کو اس کی رہائش گاہ میں دردناک انداز میں قتل کر دیا گیا۔ان کو کئی بار خنجر گھونپے گئے تھے اور ان کے دائیں بازو اور پسلیوں کو جلا دیا گیا تھا۔ ان کی حیران کن داستان ایک تصنیف Dr Mary,s Monkey میں ہے ۔
1963ء کے موسم بہار میں انیس سالہ جودتھ واری بیکر کو نیو اورلیانز میں ڈاکٹر اوشنر کے ساتھ شامل ہونے کی دعوت دی گئی۔وہ فلوریڈا سے تعلق رکھنے والا کینسر تحقیق کی ایک محنتی طالبعلم تھی۔جلد ہی اس نے لی ہاروے اوسوالڈ سے عشقیہ مراسم استوار کر لیے جس نے اسے بتایا کہ وہ ایک خفیہ ایجنسی کا رکن ہے۔
اوسوالڈ نے بیکر کا تعارف ڈیوڈ فیری سے کرایا جو جم گیریسن کے مطابق صہیونی الومیناٹی کو چیلنج کرنے والے سابق امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے قتل کا بنیادی سرغنہ تھا۔فیری نے بیکر کو بتایا کہ فیدل کاسترو کو کینسر سے متاثر کرکے امریکی حکومت قتل کرنے کا منصوبہ بنا چکی ہے۔اس طرح قتل کا الزام بھی امریکی حکومت پہ نہیں آیے گا۔
Image may contain: 2 people, text
بیکر اور اوسوالڈ کو ریلی کافی کمپنی میں خفیہ کام دیے گئے۔اس کا اصل کام فیری کی رہائش گاہ میں تھا جس کے کچھ حصے تجربہ گاہ میں تبدیل کر دیے گئے تھے۔بیکر ایک وقت میں پچاس سے ساٹھ چوہوں پہ تحقیق کرتی جن کو کینسر کی وجہ بننے والے وائرس کی وجہ سے کینسر کا شکار کیا گیا تھا۔بیکر پھر ان چوہوں کو قتل کرتی اور ان کے جسم میں موجود کینسر کی رسولی کا وزن کرتی۔
پھر ان کینسر خلیوں کو آپس میں ملا دیا جاتا۔اس کے بعد بیکر ان تحقیقات کی رپورٹ مرتب کرتی اور اس مزید نظر ثانی کے لیے ڈاکٹر میری شیرمین کے حوالے کر دیتی۔ اوسوالڈ ان سائنسدانوں اور اس خفیہ تحقیقاتی منصوبے کے زمہ داران امریکی خفیہ ایجنسی کے نمائندوں کے درمیان ایک رابطے اور دلال کا کردار ادا کر رہا تھا۔
بیکر کو بعد میں پتہ چلا کہ انگولا کے قیدیوں پہ کینسر کی وجہ بننے والے وائرس کے تجربات کیے گئے تھے۔ اس پہ بیکر نے اس جرم کے خلاف ایک خط لکھا جس نے اسے ڈاکٹر اوشنر کا دشمن بنا دیا۔اس پہ اس نے یہ تحقیق چھوڑ دی اور اپنے شوہر کے ساتھ فلوریڈا اپنے گھر واپس آگئی۔جب کہ باقی سائینسدانوں نے یہ کام جاری رکھا۔اس کے بعد اوسوالڈ نے میکسیکو کے راستے کیوبا کا سفر کرنے کی کوشش کی تاکہ کینسر کی وجہ بننے والے وائرس کو فیدل کاسترو کے قتل کے لیے کیوبا منتقل کیا جا سکے۔
بعد ازاں میری شیرمین نے اس منصوبے کے خلاف آواز بلند کی جس کی پاداش میں اسے دردناک انداز میں قتل کر دیا گیا جس کی تفصیل اوپر گزر چکی ہے۔
یہ ہے پولیو ویکسین میں شامل کینسر کی وجہ بننے والے وائرس اور عوام میں مصنوعی کینسر پیدا کرنے کی خفیہ سائنسی تحقیق جس کا انکشاف کرنے والے سائنسدانوں کو دردناک انداز میں قتل کر دیا گیا۔
یہ انسانیت کو تباہ کرنے کے خفیہ صہیونی الومیناٹی منصوبوں میں سے صرف ایک کی مختصر تفصیل ہے۔ورنہ ایسے سینکڑوں ہی نہیں ہزاروں خفیہ امریکی اور یورپی منصوبے ہیں جو آج بھی جاری ہیں۔
انسانیت سب سے بڑا مذہب کا نعرہ لگانے والے اور اسلام کو دنیا کی تباہی کا زمہ دار کہنے والے لبرل ،سیکولرز اور ارشد محمود جیسے ملحدین جو یورپی اور امریکی معاشروں کو مثالی معاشرے بتا کر اس کی پیروی کی تلقین اور اس کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے، وہ انسانیت کی تباہی کی اس امریکی و یورپی جدوجھد پہ منافقانہ طور پہ کیوں چپ ہیں؟
لعنت ہو ان سب پہ اللہ کی جو انسانیت کی تباہی کا تماشا دیکھیں لیکن پھر بھی منافق بن کر اپنی زبان بند رکھیں۔
جب تک دنیا کی کمان یورپ اور امریکا کے ہاتھ میں ہے دنیا اور انسانیت ایسے ہی تباہ ہوتی رہے گی۔
سوچیں اور اس بارے میں آگاہی کی تحریک چلائیں ورنہ نہ سوچنے کا وقت ہوگا اور نہ کچھ کرنے کا اور ان نام نہاد دانشوروں اور کالم نگاروں سے ہوشیار رہیں جو اصل حقیقت چھپا کر آپ کو یورپی اور امریکی معاشروں کو مثالی بنا کر پیش کرتے ہیں۔
۔۔
وقاص چودھری

سعودیہ اور ایران تعلقات


سعودیہ اور ایران تعلقات 

تلخی کی تاریخی وجوہات۔۔۔۔
Image may contain: 2 people
ریاض اور تہران دوسری جنگ عظیم سے ہی ایک دوسرے کے حریف رہے ہیں مگر 1979 میں ایران میں آنے والے شیعہ انقلاب نے یہ رقابت باہمی چپقلش میں بدل دی جس کی مرکزی وجہ ایران کی اس خطّے میں ولایت فقیہ کے نظام کے نفاذ کی اندرون خانہ کوششیں تھیں جو آج بھی جاری ہیں۔ ایران نے ہمیشہ خود کو ایران کا حاکم اور خلیج کا مالک سمجھنے کی غلطی کی اور طاقت و اقتدار کی ہوس میں خلیجی ممالک میں زیر زمین سازشوں کا جال بچھا دیا.
ایران میں شیعہ انقلاب کے بعد سعودی کنگ خالد نے خمینی کو مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ اسلامی اخوت ان دونوں ممالک کے درمیان اچھے تعلقات کی بنیادی وجہ بنے گی . مگر جواب میں خمینی نے سعودی بادشاہت کے مذہبی جواز اور کردار پر سخت نکتہ چینی کی . خمینی نے قومی شناخت کا تصور بھی مسترد کر دیا اور اس کی بجائے الہامی قیادت کے زیر سرپرستی مسلمانوں کے اتحاد کا تصور پیش کیا اور وہ الہامی قیادت کوئی اور نہیں بلکہ شیعت تھی جو کہ ہر سنی مسلمان کے لیے نہ قابل قبول تھی.
ان خطرناک ایرانی عزائم کے انکشاف کے بعد 1980 میں ہونے والی ایران عراق جنگ میں سعودیہ نے صدام حسین کا ساتھ دیا۔ جبکہ ایران نے سعودیہ کے مشرقی صوبے میں علیحدگی کی شیعہ تحریکوں کی حمایت اور فنڈنگ شروع کردی. ایران نے سعودی عرب کی حجاج کرام کی مہمان نوازی کو یکسر نظر اندازکرتے ہوئے سالانہ حج کو ایک بین الاقوامی سیاسی تقریب کا نام دیا اور ساتھ ہی خمینی نے مسلمانوں کے سب سے مقدس مقام مکّہ کے بارے میں اعلان کیا کہ یہ شہر بدعتیوں کے ایک گروہ کے ہاتھوں میں یرغمال ہے جسے مسلمانوں کو آزاد کروانا چاہیے.
ایران نے 1987 میں اپنی سعودی مخاصمت سے مجبور ہو کر مناسک حج کے دوران کعبہ پر قبضے کی کوشش کی اور پرتشدد جھڑپوں میں 400 افراد ہلاک ہوئے جن میں اکثر ایرانی تھے۔ اس سے اگلے روز ایرانی شورش پسندوں نے خدائی فوجدار بنتے ہوئے سعودی سفارت خانے پر حملہ کرکے سعودی سفارت کاروں کو زد و کوب کیا جس سے ایک سفارت کار جان بحق ہو گیا۔ ایرانی حکومت کی جانب سے کسی بھی قسم کا مذمتی بیان سامنے نہ آنے پر سعودیہ نے ایران سے سفارتی تعلقات سخت کر دئیے۔
صدام کے کویت پر حملے نے سعودی عرب اور ایران کو ایک موقف اور پلیٹ فارم پر یکجا کر دیا. ایران نے اس موقعے کو اپنی عالمی سیاسی تنہائی اور ملک کے خراب معاشی حالات کی وجہ سے غنیمت جانا اور اس سیاسی حکمت کو اپناتے ہوئے ایران نے سعودی عرب سے کئی تجارتی معاہدے بھی کیے۔
امریکا کے عراق پر حملے کا اسلامی دنیا میں صرف ایران نے خیر مقدم کیا اور صدام کی پھانسی پر جب تمام اسلامی دنیا غمزدہ تھی تب ایران نے یہ بیان دیا کہ الله نے بزرگ شیطان کے ہاتھوں اس کے نائب کو ختم کروا دیا۔ صدام کے زوال نے ایرانی پالیسیوں اور عزائم کو واضح کر دیا تھا۔ اور صدام کی غیر موجودگی میں بغداد سے دمشق تک ایران کے لئے اپنے اسٹریٹجیک مفاد کا حصول آسان تھا جس میں حزب الله بھی اس کے ساتھ تھی۔
اس موقعے پر سعودی ایران مفاہمت دم توڑ گئی کیونکہ ایران اب عرب سنی اکثریتی ممالک میں کھلم کھلا علیحدگی پسند شیعہ اقلیتوں کی حمایت کرنے لگا تھا۔
ایران نے 2011 کے بعد شام میں بشار کو اور یمن میں شیعہ حوثی باغیوں کو بھی فوجی اور معاشی امداد مہیا کی . سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک ان ایرانی کاروائیوں کو تتشویش کی نظر سے دیکھ رہے تھے نتیجتا سعودی عرب نے بشار اور حوثی باغیوں کے خلاف لڑنے والے مجاہدین کو فوجی مدد فراہم کی اور یہ خانہ جنگیاں ایران اور سعودی عرب کے درمیان پراکسی وار کا روپ دھار گئیں۔
سعودی عرب نے 2 جنوری 2016 کو ایرانی جاسوس نمر النمر پر الزامات ثابت ہونے پر اسے پھانسی کی سزا دی جس پر تہران میں سعودی سفارت خانے کو لوٹا اور جلایا گیا اور سعودی عرب نے تہران سے سفارتی تعلقات ختم کر دئیے۔ سعودی عرب اور ایران دونوں اس خطّے کے بااثر کھلاڑی ہیں مگر ایران حرمین شریفین پر سعودی عرب کی محافظت کو ناجائز قرار دیتا ہے جبکہ مسلمانوں کی اکثریت ان مقدس مقامات پر شیعہ قبضے کو کبھی گوارا نہیں کر سکتی۔
ایران کا دوہرا کردار تمام امت مسلمہ کے سامنے ہے جس نے ہمیشہ اس امت کی خیر خواہی اور داد رسی کے بجائے انتشار پھیلانے کا کام کیا ہے۔ ایران کی خارجہ پالیسی عملی اور نظریاتی بنیادوں پر دو رخی ہے . عملی رخ میں ایران کے تعلقات آذر بائیجان، ترکمانستان اور عیسائی ریاست آرمینیا سے بہت اچھے ہیں جبکہ نظریاتی رخ میں سعودی عرب، عراق ، شام، پاکستان، یمن اور لبنان شامل ہیں جن کے ساتھ وہ موقع کے حساب سے پینترا بدلتا ہے
۔۔۔۔
وقاص_چودھری