Showing posts with label مرجیت دلت. Show all posts
Showing posts with label مرجیت دلت. Show all posts

Sunday, May 27, 2018

درانی ۵۰ ملین ڈالر مین

 درانی ۵۰ ملین ڈالر مین 


آج سے ٹھیک تین سال قبل عثمان درانی اپنی جرمن کمپنی کی طرف سے جنوبی 
بھارت کے شہر کوچی جاتا ہے۔ کام ختم کرنے کے بعد قواعد کی رُو سے اسے واپس کوچی ائیرپورٹ سے فلائی کر کے جرمنی واپس جانا تھا لیکن اس کی فلائیٹ کا روٹ براستہ ممبئی بن گیا۔ پھر اسے ممبئی میں ویزہ کی خلاف ورزی پر گرفتار کر لیا گیا۔ اعلی سطحی رابطے ہوئے، عثمان کا والد بذات خود بھارتی افسران سے رابطہ کرتا ہے اور بالآخر پورا ایک دن حراست میں رہنے کے بعد عثمان کو واپس جرمنی روانہکر دیا جاتا ہے۔



عثمان درانی، پاکستان کے سابق آئی ایس آئی چیف اسد درانی کا بیٹا ہے۔ اس واقعے کے ایک سال بعد اسد درانی سے بھارتی صحافی ادیتیا سنہا رابطہ کرتا ہے اور اسے را کے سابق چیف امرجیت سنگھ دلت کے ساتھ مل کر ایک کتاب لکھنے کی آفر کرتا ہے جو قبول کرلی جاتی ہے۔

پھر اسد درانی، امرجیت دلت اور ادیتیا سنہا جرمنی، ترکی اور نیپال کے شہروں میں اکٹھے ہوتے ہیں جہاں پاکستان اور انڈیا کی خفیہ ایجنسیوں کے سربراہان انٹرویو کے انداز میں صحافی سنہا کے سوالوں کے جواب دیتے ہیں جسے سپائی کرونکلز کے نام سے کتابی شکل میں ریلیز کر دیا گیا۔



Image result for osman durrani isi
Image result for download button
کتاب کی اشاعت کے بعد پاکستانی فوج کی طرف سے سخت ردعمل آیا کیونکہ امرجیت کی نسبت اسد درانی نے زیادہ بڑے انکشافات کئے ہیں۔
اسد درانی کی جی ایچ کیو طلبی ہوچکی، مجھے نہیں پتہ کہ اسد درانی اپنی صفائی میں کیا کہتا ہے لیکن پاک فوج کو اس پہلو کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا کہ کہیں عثمان درانی کو کسی لڑکی وغیرہ کے ذریعے پھانس کر اسد درانی کو مجبور تو نہیں کیا گیا تھا؟
عین ممکن ہے کہ برخوردار کی کچھ تصاویر یا ویڈیو کلپس کو استعال کرتے ہوئے اسد درانی کو مجبور کیا گیا ہو کہ وہ کتاب لکھنے میں مدد دے۔
Image result for ‫عثمان درانی‬‎
بہرحال یہ کیس اپنی منجی تھلے ڈانگ پھیرنے کا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ حساس عہدوں پر کام کرنے والے افسران کو اس بات کا پابند کیا جائے کہ نہ تو وہ خود بیرون ممالک میں نوکری یا رہائش اختیار کریں گے اور نہ ہی ان کے اہل خانہ۔ اگر پاکستان میں اعلی عہدے پر فائز ہونا ہے تو پھر قربانی بھی اعلی دینا ہو گی۔
جہانگیر کرامت سے لے کر مشرف، پرویز کیانی اور راحیل شریف تک، سب کے سب آرمی چیفس باہر کے ممالک میں رہائش پذیر ہیں اور وہیں ان کے کمرشل مفادات بھی وابستہ ہیں۔
آرمی کے سابق افسران کو واپس بلایا جائے، اور اس کے ساتھ ساتھ سول حکمرانوں اور سیاستدانوں کو بھی اس بات کا پابند بنایا جائے کہ آئینی عہدہ سنبھالنے کے بعد وہ اور ان کے اہل خانہ کسی بھی صورت بیرون ممالک کاروبار یا رہائش اختیار نہیں رکھیں گے، بصورت دیگر ان پر غداری کے مقدمات درج ہوں گے۔
یہ کڑوا گھونٹ اگر آج نہ بھرا گیا تو آنے والے دنوں میں یہ عام پریکٹس ہوجائے گی کہ پاکستان میں عہدے سے ریٹائرڈ یا حکومت سے علیحدگی کے بعد غیرملکی ایجنسیوں کو پاکستانی راز بیچنے شروع کردیئے جائیں۔
ملک ایسے نہیں چلتے، ہم نے آج تک کسی کو غداری کے جرم میں پھانسی نہیں دی۔ دو چار سر قلم کرنا ہوں گے تاکہ سب کو سبق حاصل ہو اور آئیندہ محتاط رہیں۔۔!!
۔۔۔۔
وقاص چودھری

Saturday, May 26, 2018

جنرل اسد درانی کی کتاب "The Spy Chronicles"

Image may contain: 2 people, text

جنرل اسد درانی کی کتاب
۔۔۔۔
سابق آئی ایس آئی چیف جنرل درانی 1993ء میں پاک فوج سے ریٹائرڈ ہوئے۔
موصوف نے اعتراف کیا تھا کہ بے نظیری کو ہروانے کے لیے ائی ایس آئی نے سیاسی جماعتوں میں اتحاد کروایا تھا۔ اس اعتراف کے عوض ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد اسد درانی کو بے نظیر بھٹو نے جرمنی میں سفیر لگا دیا تھا۔

(بے نظیر کے خلاف بنائے گئے اس سیاسی اتحاد کا اعترف مرحوم جنرل حمید گل بھی کرتے رہے اور ان کا دعوی تھا کہ وہ اتحاد بلکل درست تھا اور آئی ایس آئی کے پاس موجود اطلاعات کے مطابق بے نظیر اس وقت اقتدار میں رہ کر قومی سلامتی خاص کر پاکستان کے نیوکلئیر پروگرام کے لیے خطرہ بن سکتی تھیں)
اسد درانی نے سابق انڈین اینٹلی جنس چیف اے ایس دلت کے ساتھ ملکر ایک کتاب لکھی ہے۔ جس کو انڈیا نے زور و شور سے پبلش کیا ہے۔ اس کتاب میں موصوف نے کچھ حیران کن دعوے کیے ہیں اور بہت سے معاملات میں انڈین موقف کی تائید کی ہے۔ مثلاً "کارگل پاکستان اور مشرف کی غلطی تھی اور پاکستان شکست کھا رہا تھا" ( جبکہ دوسری جانب کئی سابق انڈین آرمی افسران انڈین شکست کا اعتراف کرتے نظر آتے ہیں ) " افغانستان میں انڈین کونسل خانوں کی تعداد پاکستان بڑھا چڑھا کر بیان کر رہا ہے اور وہ کونسل خانے پاکستان کے خلاف جاسوسی یا دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہو رہے" (موصوف نے یہ نہیں بتایا کہ پھر وہ کونسل خانے کیا کام کرتے ہیں اور اپنی ریٹائرمنٹ کے دو عشروں بعد اس نے کب افغانستان جاکر وہ کونسل خانے گنے ہیں؟)


Image result for the spy chronicles


سب سے حیران کن انکشاف اسامہ کے بارے میں کیا ہے کہ اس کے لیے جنرل کیانی کو اعتماد میں لیا گیا تھا اور اسامہ کی اطلاع بھی شکیل آفریدی نے نہیں بلکہ ایک ریٹائرڈ آئی ایس آئی اہلکار نے امریکہ کو دی تھی اور اسامہ کو زندہ امریکہ کے حوالے کیا گیا تھا۔ موصوف نے آگے لکھا ہے کہ مجھے نہیں معلوم کہ اسامہ کے سر پر موجود پانچ ملین ڈالر انعام میں سے اس اہلکار کو کتنے ملے ہونگے۔ 

(خیال رہے کہ اسامہ کا واقعہ جنرل موصوف کی ریٹائرمنٹ کے بیس سال بعد پیش آیا۔ اس حوالے سے انتہائی باخبر رہنے والے بڑے بڑے صحافتی ادارے اور شخصیات کے علاوہ کئی ممالک کی اینٹلی جنس ایجنسیاں بھی بے خبر ہیں لیکن جنرل اسد درانی صاحب کو ایک ایک بات کا پتہ ہے) 
جو لوگ پاک فوج اور آئی ایس آئی کے بارے میں ذرا سا بھی جانتے ہیں انہیں پتہ ہے کہ فوج اور آئی ایس آئی کے مختلف بازو ایک دوسرے سے بھی حساس معلومات شیر نہیں کرتے جب تک ضروری نہ ہو۔ 

لیکن یہاں پچیس سال قبل رئٹائرڈ ہونے والے سابق افسر کے انکشافات سے یوں معلوم ہو رہا ہے جیسے آئی ایس آئی اپنی ہر ایکٹوٹی کم از کم جنرل اسد درانی صاحب کو ضرور بتاتی رہی تاکہ سند رہے اور بوقت ضرور کام آئے۔ یا دوسرا یہ ہو سکتا ہے کہ اسد درانی صاحب آئی ایس آئی کے متوازی اپنا کوئی ذاتی اینٹلی جنس نیٹ ورک چلا رہے ہوں جس کا کام آئی ایس ائی کی نگرانی کرنا ہو؟
جنرل اسد درانی اپنی کتاب کی پبلسٹی کے لیے کافی پرجوش ہیں اور وہ انڈیا جانے کے لیے بھی بے تاب نظر آرہے ہیں۔

Image result for the spy chronicles

میں نے اس کی کتاب نہیں پڑھی۔ اوپر بیان کیے گئے انکشافات وہ ہیں جو اب تک میڈیا کے ذریعے سامنے آئے ہیں۔ میری رائے میں ریٹائرڈ جنرل اسد درانی کی یہ کتاب تنہائی سے اکتائے ایک سٹھیائے ہوئے بڈھے کی منظر عام پر آنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں جس سے شائد وہ چند پیسے بھی کمانا چاہتا ہے۔ کتاب من گھڑت اور جھوٹے واقعات سے لبریز ہے۔

میرے خیال میں پاک فوج کو اسد درانی کا کورٹ مارشل کرنا چاہئے اور ان سے مطالبہ کرنا چاہئے کہ کتاب میں بیان کیے گئے دعوؤں کو ثابت کریں اور ان دعوؤں کا سورس بتائیں۔ گندے انڈے ہر جگہ ہوتے ہیں۔ کچھ انڈے وقت گزرنے کے ساتھ گندے ہوجاتے ہیں۔ جنرل اسد درانی اور جنرل شاہد عزیز بھی اسی ٹائپ کے گندے انڈے ہیں۔ میرے خیال میں اب ان گندے انڈوں کو توڑ کر پھینکنے کا وقت آگیا ہے۔ نواز شریف اس کتاب پر کمیشن بنوانا چاہتے ہیں۔ نواز شریف کو علم ہونا چاہئے کہ اسی جنرل نے دعوی کیا تھا کہ نواز شریف نے آئی ایس آئی سے رشوت لی تھی اس پر بھی کمیشن بننا چاہئے یا نہیں؟
۔۔۔۔
وقاص چودھری


مفت کتاب ڈونلوڈ کریں
Image result for download button